30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
حاصلا لامحالۃ [1]۔ |
میں کوئی امتناع نہیں اور اس ضابطہ کی صحبت کا علم و یقین ضروری ہے جب امکان صدق قائم ہے تو کذب کا حصول ہر صورت میں ممتنع ہوگا۔(ت) |
اقول: وبالله التوفیق تحریر دلیل یہ ہے کہ تم نے باری عزوجل کا تکلم بکلام کذب تو ممکن مانا اس کا کاذب ومتصف بالکذب ہونا بھی ممکن مانتے ہو یا نہیں؟ اگر کہئے نہ تو قول بالمتناقضین اور بداہت عقل سے خروج ہے کہ کاذب ومتصب بالکذب نہیں مگر وہی جو تکلم بکلام عــــــہ کذب کرے اسے ممکن کہہ کر اسے محال ماننا نرا جنون ہے۔اور اگر کہئے ہاں،تو اب ہم پوچھتے ہیں یہ انصاف صرف لم یزل میں ممکن یا ازل میں بھی شق اول باطل کہ امکان قیام حوادث کو مستلزم اور شق ثانی پر جب ازلیت کذب ممکن ہوئی تو اس کا ممتنع الزوال ہونا ممکن ہوا کہ ہر ازلی واجب الابدیۃ اور کذب کا امتناع زوال استحالہ صدق کو مستلزم کہ کذب وصدق کا اجتماع محال،جب اس کا زوال محال ہوگا ا س کا ثبوت ممتنع ہوگا،اورامکان وجود ملزوم امکان وجود لازم کو مستلزم، تحقیقا لمعنی اللزوم حیث کان ذاتیا لالعارض کما ھٰھنا(معنی لزوم کے ثبوت کی وجہ سے ذاتی ہے نہ کہ کسی عارض کی وجہ سے،جیساکہ یہاں ہے۔ت)تو لازم آیا کہ صدق الٰہی کا محال ہونا ممکن ہواور استحالہ اسی شے کا ممکن ہوگا جو فی الواقع محال ہو بھی کہ ممکن کا محال ہوجا ہر گز ممکن نہیں ورنہ انقلاب لازم آئے اوروہ قطعا باطل۔تو ثابت ہوا کہ اگرباری تعالٰی کا امکان کذب مانا تو اس کا صدق محال ہوگا لیکن وہ بالبداہۃ محال نہیں تو امکان کذب یقینا باطل،اور استحالہ کذب قطعا حاصل۔
|
و الحمد اﷲ اصدق قائل الدلائل الفائضۃ علی قلب الفقیر بعون القدیر عز جدہ وجل مجدہ۔ |
تمام تعریف الله تعالٰی کی ان سچے دلائل پر جو قدیر عزجدہ وجل مجدکی مدد سے فقیر کے دل پر وارد ہوئے۔(ت) |
دلیل ششم:اقول: وبحول اﷲ اصول(میں کہتاہوں اور الله تعالٰی کی توفیق سے بیان کرتاہوں(کلام الٰہی
|
عــــــہ: ای انشاء لاحکایۃ اذلاکلام فیہا کما لایخفی ففی القراٰن العظیم جمل عن الکفار من اراجیفھم الباطلۃ ۱۲ منہ |
یعنی بطور انشاء نہ کہ بطور حکایت کیونکہ اس میں کلام ہی نہیں جیسا کہ واضح ہے تو قرآن میں ایسے جملے موجود ہے جن میں کفار کی باطل اداکا تذکرہ ہے ۱۲ منہ(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع