30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی الازل بکلامہ القدیم ولایقال ان تصدیقہ محدث ولامخلوق تعالٰی اﷲ ان یقوم بہ الحادث [1] اھ ملخصا۔ |
میں کلام قدیم کی تصدیق ہے،یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ا س کی تصدیق محدث ومخلوق ہے کیونکہ وہ اس سے بلند ہے کہ اس کے ساتھ کوئی حادث قائم ہو اھ ملخصا(ت) |
اور جب صدق الٰہی ازلی ہوا تو امکان کذب کا محل نہ رہا کہ اس کا وقوع بے انعدام صدق ممکن نہیں تحقیقا لمعنی التضاد (کیونکہ ان میں تضاد پایا جاتا ہے،ت)اورانعدام صدق محال ہے کہ علم کلام میں مبین ہوچکا کہ قدیم اصلا قابل عدم نہیں فتبصر۔
دلیل پنجم:اگر باری عزوجل کذب سے متصف ہوسکے تو اس کا کذب اگر ہوگا توقدیم ہی ہوگا کہ اس کی کوئی صفت حادثہ نہیں،اور جو قدیم ہے معدوم نہیں ہوسکتا،تو لازم کہ صدق الٰہی محال ہوجائے حالانکہ یہ بالبداہۃ باطل،توکذب سے اتصاف ناممکن،یہ دلیل تفسیر کبیر و مواقف وشرح مقاصد میں افادہ فرمائی،امام کی عبارت یہ ہے زیر قولہ تعالٰی "وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللہِ حَدِیۡثًا ﴿٪۸۷﴾" [2] (الله تعالٰی سے بڑھ کر کون سے سچی بات فرمانے والا۔ت) امتناع کذب الٰہی پر اہل سنت کی دلیل بیان کرتے ہیں:
|
اما اصحابنا فدلیلھم انہ لوکان کاذبا لکان کذبہ قدیما،ولو کان کذبہ قدیما لامتنع زوال کذبہ لامتناع العدم علی التقدیم،ولوامتنع زوال کذبہ قدیما لامتنع کونہ صادقا،لان وجود احد الضدین یمنع وجود الضد الاٰخر فلو کان کاذبا لامتنع ان یصدق لکنہ غیر ممتنع،لانا نعلم بالضرورۃ ان کل من علم شیئا فان لایمتنع علی ان یحکم علیہ بحکم مطابق للمحکوم علیہم والعلم بھذہ الصحۃ ضروری، فاذاکان امکان الصدق قائما کان امتناع الکذب |
ہمارے علماء کی دلیل یہ ہے کہ اگر وہ کاذب ہے تو اس کا کذب قدیم ہوگا اور اس کا کذب قدیم ہے تو اس کے کذب کا زوال ممتنع ہوگا کیونکہ قدیم پر عدم،ممتنع ہوتاہے،اوراگر سا کے کذب کا زوال قدیما ممتنع ہے تو اس کا صادق ہونا ممتنع ہوگا کیونکہ ضدین میں سے ایك کا وجود دوسرے کے وجود کے لئے امتناع کاسبب ہوتاہے،تواگر وہ کاذب ہے تو اس کا صادق ہونا ممتنع ہوگا لیکن یہ تو ممتنع نہیں کیونکہ ہم بداہۃ جانتے ہیں کہ جو شخص کسی شی کے بارے میں علم رکھتاہو اس کے لئے اس شے پر محکوم علیہ کے مطابق حکم لگانے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع