30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جب کذب ممکن جانا اور امکان نہیں مگر جانب مخالف سے سلب ضرورت تو لاجرم باری تعالٰی کے صادق ہونے کو ضروری نہ مانامگر جاہل کہ صادق بالفعل ماننا ہی ان کے مذہب نامہذب کا استیصال کر گیا کہ جب وہ صادق ہے اور صدق مشتق قیام مبدء کو مستلزم،تو واجب کہ صدق اس کی ذات پاك سے قائم اور ذات الٰہی سے قیام حوادث محال،تو ثابت کہ صدق الٰہی ازلی ہے بعینہ اسی طریقہ سے ہمارے ائمہ کرام نے تکوین وغیرہ کا صفات ازلیہ سے ہونا ثابت فرمایا۔شرح عقائد نسفی میں ہے:
|
(التکوین صفۃ)ﷲ تعالٰی لاطباق العقل و النقل علٰی انہ تعالٰی خالق للعالم مکون لہ وامتناع اطلاق الاسم المشتق علی الشیئ من غیر ان یکون ماخذ الاشاق وصفالہ قائمہ بہ(ازلیۃ)بوجوہ الاول انہ یمتنع قیام الحوادث بذاتہ تعالٰی لما مر [1] اھ ملخصا۔ |
(تکوین صفت ہے)الله تعالٰی کی،کیونکہ عقل ونقل اس پر شاہد ہیں کہ الله تعالٰی جہاں کا خالق اور بنانے والا ہے اور کسی شے،پر اسم مشتق کا اطلاق اس وقت تك ممتنع ہوتاہے جب تك مادہ اشتقاق اس کا وصف اوراس کے ساتھ قائم نہ ہو(ازلی ہے)اس پر متعدد دلائل ہیں،اول یہ کہ الله تعالٰی کی ذات اقدس کے ساتھ حوادث کاقیام ممتنع ہے جیساکہ گزرچکا ہے اھ ملخصا(ت) |
اسی میں ہے:
|
اﷲ تعالٰی متکلم بکلام ھو صفۃلہ ضرورۃ امتناع اثبات المشتق لشیئ من غیرقیام ماخذ الاشتقاق بہ [2]۔ |
الله تعالٰی متکلم بکلام ہے اور یہ اس کی صفت ہے کیونکہ یہ بدیہی بات ہے کہ کسی شیئ کے لئے مشتق کا اثبات اس کے ساتھ ماخذ اشتقاق کے قیام کے بغیر ممتنع ہوتاہے۔(ت) |
منح الروض میں مسامرہ سے ہے:
|
الایمان من صفات اﷲ تعالٰی من اسمائہ الحسنی "المؤمن"کما نطقق بہ الکتاب العزیز،وایمانہ ھو تصدیقہ |
ایمان،الله تعالٰی کی صفات میں سے ہے کیونکہ ا س کے اسماء حسنی میں"المؤمن"بھی ہے جیسا کہ قرآن عزیز اس پر ناطق ہے اور اس کا ایمان ازل |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع