30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مطابق واقع اداکرے تو لازم کہ آدمی اس وجہ سے افضل ہوجائے اورباری عزوجل پر کسی جہت سے کسی مخلوق کو کسی طرح کا فضل جزئی بھی اگرچہ نہایت ضعیف ومضمحل ہو ملنا محال،تو ثابت ہو اکہ مکان کذب باطل خیال ہے فافھم والعزۃ ﷲ ذی الجلال(پس غور کیجئے اور عزت الله ذوالجلال کے لئے ہے۔ت)
ثم اقول: اس دلیل کی ایك مختصر تقریر یوں ممکن ہے کہ اگر کذب خالق ممکن ہو تو کتنی بڑی شناعت ہے کہ خلق سچی اور خالق جھوٹا،العیاذ بالله رب العالمین،لیکن صدق خلق محال نہیں توکذب خالق ممکن نہیں۔
دلیل چہارم:جس کی طرف امام فخر الدین رازی نے نص ۱۶ میں اشارہ فرمایا کہ جب اہلسنت کے نزدیك الله عزوجل کا صدق ازلی تو کذب محال کہ ہر ازلی ممتنع الزوال،اقول: وبالله التوفیق تصویر دلیل یہ ہے کہ الله عزوجل پر اسم صادق کا طلاق قطع نظر اس سے کہ قرآن عــــــہ وحدیث واجماع سے ثابت،مخالفان عنید یعنی طائفہ جدید کو بھی مقبول کہ وہ بھی الله عزوجل کو صادق بالفعل تو مانتےہیں اگرچہ صادق بالضرورۃ ہونےسے انکار کرتےہیں کہ
|
عــــــہ:اما القراٰن فقولہ تعالٰی ذٰلك جزینٰھم ببغیھم وانا "ذٰلِکَ جَزَیۡنٰہُمۡ بِبَغْیِہِمْ ۫ۖ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوۡنَ ﴿۱۴۶﴾"[1] وقول تعالٰی "وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللہِ قِیۡلًا ﴿۱۲۲﴾"[2] فان المعنی ان اﷲ تعالٰی اصدق قائل وحمل الاصدق حمل الصادق مع زیادۃ واماالحدیث فقد عد الصادق من الاسماء الحسنٰی فی حدیث ابن ماجۃ [3] وحدیث الحاکم فی المستدرك وابی الشیخ و ابن مردویۃ فی تفسیریھما وابی نعیم فی کتاب الاسماء الحسنٰی کلھم عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم واما ا لاجماع فظاھر لاینکر ۱۲ منہ۔ |
قرآن میں الله تعالٰی کا فرمان ہے یہ ہم نے ان کی بغاوت کی سزادی اور ہم یقینا سچے ہیں،دوسرے مقام پر فرمایا:الله تعالٰی سے بڑھ کر کون زیاد سچاہے،معنی یہ ہے کہ الله تعالٰی سب سے بڑھ کر صادق ہے،اور اصدق کا حمل صادق مع زیادۃ کا حمل ہے رہی حدیث تو حدیث میں اسماء حسنٰی میں صادق کو شمار وشامل کیا گیاہے،اور یہ حدیث حضرت ابوہریرہ رضی الله تعالٰی عنہ نے رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کی ہے اور اسے ابن ماجہ،حاکم نے مستدرك میں،ابوالشیخ اور ابن مردویہ نے اپنی تفاسیر اور امام ابو نعیم نے"کتاب الاسماء الحسنی"میں ذکر کیا،رہا اجماع تو واضح ہے،اس کا انکار کیا ہی نہیں جاسکتا ۱۲ منہ(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع