30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نص ۱۸:تفسیر مدارك شریف میں ہے:
|
"وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللہِ حَدِیۡثًا ﴿٪۸۷﴾" تمییز وھو استفھام بمعنی النفی ای لااحد اصدق منہ فی اخبارہ ووعدہ ووعیدہ لاستحالۃ الکذب علیہ تعالی لقبحہ عــــــہ لکونہ اخبارا عن الشیئ بخلاف ماھو علیہ [1]۔ |
آیت میں استفہام انکاری ہے یعنی خبر وعدہ وعید کسی بات میں کوئی شخص الله سے زیادہ سچا نہیں کہ اس کا کذب تو محال بالذات ہے کہ خود اپنے معنی ہی کے رو سے قبیح ہے کہ خلاف واقع خبر دینے کا نام ہے۔ |
نص ۱۹:تفسیر علامۃ الوجود سیدی ابی السعود عمادی میں ہے:
|
"وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللہِ حَدِیۡثًا ﴿٪۸۷﴾"انکار لان یکون احد اصدق منہ تعالٰی فی وعدہ وسائر اخبارہ وبیان لاستحالتہ کیف لاوالکذب محال علیہ سبحٰنہ دون غیرہ [2]۔ |
آیت میں انکار ہے اس کا کہ کو ئی شخص الله تعالٰی سے زیادہ سچا ہو وعدہ میں یا کسی اور خبر میں،اور بیان ہے اس زیادت کے محال ہونے کا،اور کیوں نہ محال ہو کہ الله تعالٰی کا کذب تو ممکن ہی نہیں بخلاف اوروں کے۔ |
|
عــــــہ:اقول: استدل قدس سرہ بالقبح اما فی نظر الظاھر فلانہ رحمہ اﷲ تعالٰی من ائمتنا الما تریدیۃ ولذا عدلت عنہ الاشاعرۃ کصاحب المواقف وصاحب المفاتیح کما سمعت نصھما واما عندالتحقیق فلان عقلیۃ القبح بھذا المعنٰی من المجمع علیہ بین العقلاء وھٰوالاء شاعرۃ رحمہم اﷲ تعالٰی انفسھم ناصون بذلك فلا علیك من ذھول من ذھل کما اومانا الیہ فی صدر البحث واﷲ تعالٰی اعلم ۱۲ منہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ |
اقول:علامہ قدس سرہ،نے قبح سے استدلال کیا ظاہر نظر میں تو اس لئے کہ آپ رحمہ الله تعالٰی ہمارے ائمہ ماتریدیہ میں سے ہے اسی لئے اشاعرہ نے قبح سے استدلال نہ کیا جیساکہ آپ نے صاحب مواقف اور صاحب مفاتیح کی نصوص سنیں،اورعند التحقیق اس لئے کہ اس معنی میں قبح عقلی ہونا عقلاء اور اشاعرہ میں متقفہ چیز ہے جس کو خود اشاعرہ رحمہم اﷲ تعالٰی نے بیان فرمایا جیسا کہ ہم نے بحث کی ابتداء میں اشارہ کیا ہے کسی کے ذہول سے تجھ پرکوئی اعتراض نہیں،والله تعالٰی اعلم۱۲ منہ رضی الله تعالٰی عنہ۔ (ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع