30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ماکان وصف نقص فالباری تعالٰی منزہ عنہ وھو محال علیہ تعالٰی والکذب وصف نقص اھ ملخصا [1]۔ |
کہ جو کچھ صفت عیب ہے باری تعالٰی اس سے پاك ہے اور وہ الله تعالٰی پرت ممکن نہیں اور کذب صفت عیب ہے۔(ملخصا) |
نص ۱۲:امام فخر الدین رازی تفسیر کبیر میں فرماتے ہیں:
|
قول تعالٰی فلن یخلف اﷲ عہدہ یدل علی انہ سبحانہ وتعالٰ منزہ عن الکذب وعدہ و عیدہ۔قال اصحابنا لان الکذب وصفۃ نقص والنقص علی اﷲ تعالٰی محال،وقالت المعتزلۃ لان الکذب قبیح لانہ کذب فیستحیل ان یفعلہ فدل علی ان الکذب منہ محال[2] اھ ملخصًا۔ |
الله عزوجل کا فرمانا کہ الله ہرگز اپنا عہد جھوٹا نہ کریگا دلالت کرتاہے کہ مولٰی تعالٰی سبحانہ اپنے ہر وعدہ و وعید میں جھوٹ سے منزہ ہے،ہمارے اصحاب اہل سنت وجماعت ا س دلیل سے کذب الٰہی کو نا ممکن جانتے ہیں کہ وہ صفت نقص ہے اور الله عزوجل پر نقص محال،اور معتزلہ ا س دلیل سے ممتنع مانتے ہیں کہ کذب قبیح لذاتہ ہے تو باری تعالٰی عزوجل سے صادر ہونا محال،غرضٰ ثابت ہوا کہ کذب الٰہی اصلا امکان نہیں رکھتا۔اھ (ملخصا) |
نص ۱۳:الله عزوجل فرماتا ہے:
|
"وَتَمَّتْ کَلِمَتُ رَبِّکَ صِدْقًا وَّعَدْلًا ؕ لَا مُبَدِّلَ لِکَلِمٰتِہٖۚ وَ ہُوَ السَّمِیۡعُ الْعَلِیۡمُ ﴿۱۱۵﴾"[3] |
پوری ہے بات تیرے رب کی سچ اور انصاف میں کوئی بدلنے والا نہیں،اس کی باتوں کا،اوروہی ہے سنتا جانتاہے۔ |
امام ممدوح اس آیت کے تحت میں لکھتے ہیں:
|
اعلم ان ھذہ الاٰیۃ تدل علی ان کلمۃ اﷲ موصوفۃ بصفات کثیرۃ(الٰی ان قال)الصفۃ الثانیۃ من صفات کلمۃ اﷲ کونھا صدقا والدلیل علی ان الکذب نقص والنقص علی اﷲ تعالٰی محال [4]۔ |
یہ آیت ارشاد فرمائی ہے کہ کذب الله تعالٰی کی بات بہت صفتون سے موصوف ہے،ازانجملہ اس کا سچا ہوناہےاوراس پر دلیل یہ ہے کہ کذب عیب ہے اور عیب الله تعالٰی پر محال۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع