30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الابالموجود والعلم یتعلق بالموجود والمعدوم والمطلق والمقید [1] اھ۔ |
موجودسے ہوتاہے اور علم کا تعلق موجود ومعدوم اور مطلق ومقید سے ہوتا ہے اھ(ت) |
حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ میں ہے:
|
المعدومات التی عــــــہ ماارادھا اﷲ تعالٰی ولاتعلقت القدرۃ بایجادھا فی ازمنتھا المقدرۃ لھا،ولاکشف عنھا العلم موجودۃ فی تلك الازمنۃ فلا یتعلق بھا السمع و البصر،وکذلك المستحیلات بخلاف العلم فانہ یتعلق بالموجودات والمعدوم [2]۔ |
وہ معدومات جن کا الله تعالٰی نے اردہ نہیں فرمایا اور از منہ مقررہ میں ان کی ایجاد کے لئے قدرت متعلق نہیں ہوتی اور نہ مقدرہ زمانہ میں موجود ہوکر تحت علم آتی ہیں تو ایسی معدومات سے الله تعالٰی کی سمع وبصر متعلق نہیں ہوتی اور محالات کا معاملہ بھی ایسا ہے بخلاف علم کہ ا س کا تعلق موجود اور معدوم دونوں سے ہے۔(ت) |
|
عــــــہ:اقول: قولہ مارادولا تعلقت ولاکشف عبارات شتٰی عن معبر واحد وھو دوام العدم المناقض للوجود بالفعل فان کل ما اراداﷲ تعالٰی فقد تعلقت القدرۃ بایجادہ بالفعل وبالعکس،وما کان کذلك فقد کشف العلم عنہ موجودا بالاطلاق العام وبالعکس وذلك لان العلم موجودا تابع اللوجود ولاوجود للمخلوق الابتعلق القدرۃ ولا تعلق للقدرۃ الا بترجیح الارادۃ،کما تقرر کل ذٰلك فی مقرہ،واﷲ تعالٰی اعلم۔۱۲ منہ |
اقول:حدیقہ کا قول"ارادہ نہ فرمایا"قدرت کا تعلق نہ ہو،علم کا کشف نہ ہو،یہ مختلف عبارات ہیں جن کی مراد ایك ہے اور وہ یہ کہ دائمی جو عدم بالفعل وجود کے مناقض ہے کیونکہ الله تعالٰی جس چیز کا ارادہ فرماتاہے اس کے ایجاد سے بالفعل قدرت کا تعلق بھی ہوتاہے اور اس کا عکس بھی ہوتاہے جو چیز اس شان میں ہوگی اسی کے بالفعل موجود ہونے کا مطلقًا علم بالکشف ہوتاہے اور عکس بھی،کیونکہ کسی موجود کا علم ا س چیز کے وجو دسے ہوتا ہے جبکہ مخلوق کاوجود قدرت کے تعلق کے بغیر نہیں ہوسکتا اور قدرت کا تعلق ارادہ سے ترجیح پائے بغیر نہیں ہوسکتا جیسا کہ یہ تمام امور اپنے مقام میں ثابت شدہ ہیں،والله تعالٰی اعلم ۱۲ منہ(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع