30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
قد افتی ائمۃ سمرقند وبخار اعلی انہ(یعنی المعدوم) غیر مرئی،وقدذکر الامام الزاھد الصفار فی اٰخر کتاب التلخیص ان المعدوم مستحیل الرؤیۃ، و کذا المفسرون ذکروا ان المعدوم لایصلح ان یکون مرئ اﷲ تعالٰی،وکذا قول اسلف من الاشعریۃ و الماتریدیۃ ان الوجود علۃ جواز الرؤیۃ مع الاتفاق، علی ان المعدوم الذی یستحیل وجودہ لایتعلق بہ برؤیتہ [1] سبحنہ اھ۔ |
ائمہ سمرقند وبخارا نے یہ فتوٰی دیاکہ(معدوم)دکھائی نہیں دیتا،امام زاہد صفار نے کتاب التلخیص کے آخر میں لکھا معدوم کی رؤیت محال ہوتی ہے،اسی طرح مفسرین نے کہا معدوم الله تعالٰی کے دکھائی دینے کے قابل ہی نہیں۔اسلاف اشعریہ اور ماتیرید یہ کابھی قول یہی ہے کہ جواز رؤیت کی علت وجود ہے اوراس پر اتفاق ہے کہ ایسا معدوم جس کا وجود محال ہے اس کے ساتھ رؤیت باری کا تعلق نہیں ہوسکتا اھ(ت) |
شرح السنوسی للجزائریہ میں ہے:
|
انھما(یعنی سمعہ تعالٰی وبصرہ)لایتعلقان |
ان دونوں(الله تعالٰی کے سمع وبصر)کا تعلق |
|
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ) الرؤیۃھو الوجود وقداجمعوا کما فی المواقف انہ تعالٰی یرٰی نفسہ فتبین ان الحق ھوا التعمیم وان قولہ تعالٰی " اِنَّہٗ بِکُلِّ شَیۡءٍۭ بَصِیۡرٌ﴿۱۹﴾"[2] جار علی صرافۃ عمومہ من دون تطرق تخصیص الیہ اصلا ھکذا ینبغی التحقیق واﷲ ولی التوفیق ومن اتقن ھذا تیسرلہ اجراء فی السمع بدلیل کلام اﷲ سبحانہ وتعالٰی فافھم واﷲ سبحنہٰ وتعالٰی فافھم واﷲ سبحنہ وتعالٰی اعلم ۱۲ منہ رضی اﷲ عنہ۔ |
کردی ہے کہ آخرت میں الله تعالٰی کی رؤیت کا مدار صرف وجود ہے جبکہ ان کا اجماع ہے کہ الله تعالٰی اپنی ذات کو دیکھتاہے جیساکہ مواقف میں ہے،تو ابصار میں تعمیم ہی حق ہے،اور الله تعالٰی کے ارشاد" اِنَّہٗ بِکُلِّ شَیۡءٍۭ بَصِیۡرٌ﴿۱۹﴾"کا اجراء اپنے خالص عموم پر ہوگا جس میں کسی قسم کی تخصیص کا شائبہ نہ ہوگا۔یوں تحقیق ہونی چاہئے جبکہ الله تعالٰی ہی توفیق کا مالك ہے جو بھی ا س تحقیق پر یقین رکھے گا اس کے لئے صفت سمع میں بھی عموم کاا جراء آسان ہو گا جس کی دلیل الله تعالٰی کا ارشاد ہے پس سمجھو والله تعالٰی اعلم ۱۲ منہ رضی الله تعالٰی عنہ(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع