30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کیا آئے گا تو نقصان جانب قابل ہے نہ کہ جانب فاعل،شرح فقہ اکبر میں ہے:
|
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ) موالقدرۃ والتکوین التی لایجب فعلیۃ جمیع التعلقات الممکنۃ لھا بل ھو امن صفات التی یجب ان تتعلق بالفعل بکل ما یصلح لتعلقھا کالعلم فعدم ابصار بعض مایصح ان یبصرہ نقص فیجب تنزیھہ تعالٰی عنہ کعدم العلم ببعض مایصح ان یعلم، وھذا ممالایجوز ان یتناطع فیہ عنزان انما الشان فی تعبیر مایصح تعلق الابصار بہ فان ثبت القصر علی الاشکال والوان والاکوان فذاک،وان ثبت عموم الصحۃ بکل موجود وجب القول بتحقق عموم الابصار ازلًا وابدًا لجمیع الکائنات القدیمۃ والحادثۃ الموجودۃ فی ازمنتھا المحققۃ اوالمقدرۃ لما عرف من انہ لا یجوز ھٰھنا شیئ منتظر لکن الاول باطل للاجماع علی رؤیۃ المومنین ربھم تبارك وتعالٰی فی الدار الاٰخرۃ فکان اجماع علی ان صحۃ الابصار لاتختص بماذکر وقد صرح اصحابنا فی ھذا المبحث ان مصحح |
تحقیق یہ ہے کہ ابصار بیشک،ارادہ قدرت اور تکوین صفات جیسی نہیں۔جن کا تمام ممکنہ تعلقات سے بالفعل متعلق ہونا واجب نہیں بلکہ ابصار ان صفات میں سے جن کا ممکن التعلق سے بالفعل متعلق ہونا واجب ہے جیساکہ علم کا معاملہ ہے توبعض وہ چیزیں جن کا ابصار ممکن اور صحیح ہوسکتاہے ان کا عدم ابصار نقص ہوگا لہذا الله تعالٰی کا اس نقص سے پاك ہونا ضروری ہے جیےس علم سے متعلق بعض اشیاء کا علم نہ ہونا نقص ہے جس سے وہ پاك ومنزہ ہے یہ وہ معاملہ ہے جس میں دو آراء نہیں ہوسکتیں،اب صرف یہ بحث ہے کہ ابصار کا تعلق کن چیزوں سے ہوسکتاہے اگر یہ ثابت ہوجائے کہ ابصار صرف اشکال والوان و اکوان سے ہی متعلق ہوسکتی ہے تو یہی ہوگا اور اگر ثابت ہوجائے کہ اس کا تعلق تمام موجودات سے صحیح ہوسکتاہے تو پھر ازلًا وابدًا تمام کائنات وحادثہ خواہ وہ اپنے زمانوں میں محقق ہوں یا مقدر ہوں سب سے ابصار کا تعلق ماننا اور بیان کرنا واجب ہوگا جیسا کہ واضح ہے کہ اب کوئی چیز انتظار کے مرحلہ میں نہ ہوگی،لیکن پہلی شق باطل ہے کیونکہ آخرت میں مومنین کے لئے الله تعالٰی کی رؤیت پر اجماع ہے(حالانکہ الله تعالٰی اشکال والوان سے پاك ہے)تو ثابت ہواکہ ابصارکا تعلق اشکال والوان سے مختص نہیں ہے جبکہ ہمارے اصحاب نے اس کے بحث میں تصریح (باقی برصفحہ آئندہ) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع