30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کسوت وجود نہ پہنی نہ ابد تك پہنےکہ ابصار کی صلاحیت موجودہی میں ہے جو اصلا ہے ہی نہیں،وہ نظر
|
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ) والبصر بانہ صفتۃ ازلیہ تتعلق بالمبصرات او بالموجودات [1]الخ فاقول: لایجب ان یکون اشارۃ الی الخلاف بل اتی اولا بالمبصرات معتمداعلی بداھۃ تصورہ ثم اردت بالموجودات فرارا عن صورۃ الدور، و لیس فی التعبیرین تناف الخاصلا،فان المبصر ما یتعلق بہ الابصار ولیس فیہ دلالۃ علی خصوصیۃ شیئ دون شیئ فاذاکان الابصار یتعلق بکل شیئ کان المبصر والموجود متسادیین،نعم لما کان ابصار نا الدینوی العادی مختصا باللون ونحوہ ربما یسبق الذھن الٰی ھذا لخصوص فازال الوھم بقولہ او بالموجودات آتیا بکلمۃ اولتخییرفی التعبیر۔وھذہ نکتۃ اخری للارداف وانما لم یکتف بہ لان ذکر المبصرات ادخل فی التمیز۔ ثم اقول،تحقیق التقدم ان الابصار لاشك انہ لیس کاالارادۃ
|
ذات سے قائم ہے اور تمام مسموعات یا موجودات سے متعلق ہے الخ،اور الله تعالٰی کی بصر کی تعریف یوں کی ہے کہ وہ اس کی ازل صفت ہے جو تمام مبصرات یا موجودات سے متعلق ہے الخ،اقول: اس سے متعلق میں کہتا ہوں"او"یعنی یا،سے تعبیر میں ضروری نہیں کہ یہ اختلاف کا اشارہ ہو بلکہ مبصرات کو پہلے ذکر کرکے اس کے تصور کی بداہت کو ظاہر کیا پھر موجوادت کو ساتھ ذکر کیا تاکہ دور لازم نہ آئے جبکہ مبصرات وموجودات دونوں تعبیر ات میں کوئی منافات نہیں ہے کیونکہ مبصر وہ چیز ہے جس سے ابصار کا تعلق ہوسکے جبکہ کسی شیئ سے خصوصیت پر کوئی دلالت نہیں ہے،تو جب ابصار کا تعلق ہر چیز سے ہے تو مبصرا اور موجود دونوں مساوی ہوئے،ہاں ہماری دنیاوی عادی بصار چونکہ الوان وغیرہ سے مختص ہیں اس لئے ہوسکتا ہے کہ ذہن اس خصوصیت کو اپنائے اس لئے انھوں نے مذکورہ وہم کے ازلہ کے لئے"او بالموجودات"کلمہ"او"کو تعبیر میں اختیار دینے کے لئے لائے۔ تو مبصرات کے بعد موجودات کو ذکر کرنے کا دوسرا نکتہ ہوا،اور صرف موجودات پر اکتفاء اس لئے نہ کیا کیونکہ مبصرات کو امتیاز میں زیادہ دخل نہیں۔پھر میں کہتا ہوں مقام کی (باقی برصفحہ آئندہ) |
[1] الحدیقۃ الندیہ بحوالہ اللاقانی ھی ای الصفات یعنی صفات المعانی الحیاۃ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱/ ۲۵۵
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع