30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تاویل کی جگہ نہ ہوتی تو حکم
بہت سخت تھا فقیر کے دیوان میں اصلا کوئی شعر اس مضمون کا نہیں۔ولہ الحمد وھو تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۶۲: از شہر دہلی پہاڑ گنج مسجد
غریب شاہ مرسلہ محمد عبدالکریم صاحب ۹ شعبان
۱۳۳۷ھ
حضور! مندرجہ ذیل اشعار کے متعلق یہاں کے مولویوں نے کہا ہے کہ ا س کا جوا ب کوئی اہل الله دے گا،لہذا اس کا جواب حضور ہی دیں گے۔اشعار:
(۱)چہ خوش گفت بہلول فرخندہ فال کہ من از خدا پیش بودم دوسال
(۲)من آں وقت کہ دم خدارا سجود کہ ذات وصفات خداہم نہ بود
الجواب:
دوسرا شعر ایسا مشکل نہیں،نبود سے نہ نفی مطلق مقصود نہ مفہوم بلکہ نفی مقید بوقت سجدہ یعنی جس وقت میں نے سجدہ کیا اس وقت میں ذات صفات نہیں۔اوریہ حق ہے کہ ذات وصفات الٰہی وقت و زمانہ سے متعالٰی ہیں۔وہ کسی وقت میں نہیں وقت سے پاك ہیں۔جیس کسی مکان میں نہیں مکان سے پاك میں،زمان ومکان سب حادث ہیں اور ذات وصفات الٰہی قدیم،جب زمان ومکان نہ تھے ذات وصفات ان سے جدا تھیں،ایسے ہی اب بھی ہیں اور ہمیشہ رہیں گی،پہلے شعر میں از خدا لفظ پیش سے متعلق نہیں بلکہ بودم سے اور پیش کا متعلق از یں محذوف ہے۔جیسے عربی " کُنَّا قَبْلُ فِیۡۤ اَہۡلِنَا مُشْفِقِیۡنَ ﴿۲۶﴾ "[1]یعنی قبل ہذا اردو میں پہلے کہہ چکا یعنی اس سے پہلے،یوہیں پیش بودم یعنی پیش از یں۔اس کا اشارہ حالت موجود کی طرف ہے یعنی عالم اجساد میں ہونا،اور سائل سے مراد زمانہ ممتمد کہ یہاں ہزار سال ہے،تو مطلب یہ ہوا کہ میں اس عالم اجساد میں آنے سے دوہزار برس پہلے خدا کی طرف سے وجود رکھتاتھا،موجود تھا،اور یہ حق ہے،حدیث میں ہے:
|
ان اﷲ تعالٰی خلق الارواح قبل الاجسام بالفی عام [2]۔ |
الله تعالٰی نے روحیں جسموں سے دو ہزار برس پہلے بنائیں۔ |
باایں ہمہ دونوں شعر موہم معنی کفر ہیں اور ان کا اطلاق سخت اشد حرام،والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۶۳ تا ۶۵:از شہر بریلی محلہ سہسوائی ٹولہ متصل مسجد چپ شاہ مسئولہ لیاقت حسین طالبعلم ۶ رمضان المبارك ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے شرع درباب اس شعر کے نعت رسول اکرم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم وھو ھذا:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع