30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہمارے سرور عالم کا رتبہ کوئی کیا جانے
خدا سے ملنا چاہے تو محمد کو خدا جانے
یہ شعر عام طور پر حضور سرور عالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کی محفل میلاد میں پڑھنا درست ہے یا نہیں؟
الجواب:
اس شعر کا ظاہر صریح کفر ہے اور اس کا پڑھنا حرام ہے اور جو اس کے ظاہر مضمون کا معتقد ہو یقینا کافر ہے۔ہاں اگر بقرینہ مصرعہ اولٰی یہ تاویل کرے کہ خدا سے ملنا چاہے تو یوں سمجھے کہ محمد صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے مرتبہ کو الله ہی جانتاہے تو یہ معنی صحیح ہے،مگر ایسا موہم لفظ بولنا جائز نہیں۔ردالمحتار میں ہے:
|
مجرد ایھام المعنی المحال کاف فی المنع [1]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
منع کے لئے محض محال معنی کا ایہام ہی کافی ہوتاہے۔والله تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۶۱:از جودھپور مارواڑ مرسلہ قاضی محمد عبدالرحمن صاحب متخلص بہ طالب مدرس درجہ اول سردار اسکول ۱۸ جمادی الآخر ۱۳۳۷ھ
حضرتم! السلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ،،بتاریخ ۱۶ مارچ سنہ رواں بروز یك شنبہ جودھپور میں مشاعرہ تھا،مصرع طرح ھو ہذا: "شب عاشق سحر نہ ہوجائے"نمبر ۲ پر ایك غزل نعتیہ پڑھی گئی جس کا مطلع یہ ہے: ؎
نعمت خیریہ البشریہ نہ ہوجائے
دل حقیقت نگر نہ ہوجائے
کیا حضور! یہ مطلع نعت میں ٹھیك ہے؟ اس کا قائل کہتاہے کہ آپ کے دیوان میں بھی اس قسم کا کوئی شعر ہے گر وہ شعر دیوان میں دکھاتانہیں۔اور خاکسار کے پاس دیوان ہے نہیں۔لہذا متکلف ہوں کہ اس میں جو کچھ امر حق ہو جواب سے سرفراز فرمادیں۔
الجواب:
وعلیکم السلام ورحمۃ الله وبرکاتہ،،یہ مطلع سخت باطل وناجائز ہے کہ اس میں نعت اقدس سے ممانعت ہے اور نعت اقدس اعظم فرائض ایمان سے ہے،اس سے ممانعت کس حد تك پہنچتی ہے،اگر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع