30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۴)جو پہنچا مرتبہ جبروت میں مسجود عالی کا تو اس جسم مطہر کو وہ نورالله کہتے ہیں
(۵)الست مرتبہ لاہوت سمجھو ذات کا احمد سب اس رتبہ میں آنحضرت کو عین کہتے ہیں
(۶)خدا فرمائے گامحشرمیں بخشالو تم اب احمد گنہ گاران امت کو شفیع الله کہتے ہیں
(۷)نزول از تاعروج حضرت کا لکھا ہے حقیقت سے خدا پہچان سب سے حسن لله کہتے ہیں
الجواب:
ان اشعار کا پڑھنا حرام حرام سخت حرام ہے،ان میں بعض کلمہ کفریہ ہیں اگرچہ تاویل کے سبب قائل کوکافر نہ کہیں اور بعض موہم کفر ہیں اور یہ بھی حرام ہے،ردالمحتار میں ہے:
|
مجرد ایھام المعنی المحال کاف فی المنع [1]۔ |
منع کے لئے محض محال کا معنی کا ایہام ہی کافی ہوتاہے۔(ت) |
ہاں بعض جیسے شعر چہارم وششم ایہام کفر سے خالی ہیں پھر بھی ششم میں مصرعہ دوم"گنہ گاران امت الخ"کو حضرت عزت کی طرف نسبت کرنا صحیح نہیں،اور چہارم میں مسجود کا لفظ مناسب نہیں۔ہاں شاہ عبدالعزیز صاحب تفسیر عزیزی میں فرماتے ہیں:
|
ہزاران ہزار عاشق برآستانہ او(صلی الله تعالٰی علیہ وسلم) سجدات می کنند وایں مرتبہ ہیچکس را ندادہ اند۔مگر بطفیل ایں محبوب(صلی الله تعالٰی علیہ وسلم)برخے ازاولیائے امت راشمہ محبوبیت آں نصیب شدہ مسجود خلائق ومحبوب دلہا گشتہ اند مثل حضرت غوث الاعظم وسلطان المشائخ نظام الدین اولیاء رضی الله تعالٰی عنہما [2](ملخصًا)والله تعالٰی اعلم۔ |
لاکھوں عشاق ان(صلی الله تعالٰی علیہ وسلم)کے مبارك آستاں پر سجدہ کرتے ہیں اور یہ مرتبہ جس کی بھی عطا کیا گیا ہیے وہ اس محبوب(صلی الله تعالٰی علیہ وسلم)کی طفیل ہے۔ اولیائے امت میں سے جس کو اس محبوبیت سے حصہ ملا ہے وہ مخلوق کے مسجود و محبوب ہوئے مثلا حضرت غوث الاعظم، سلطان المشائخ نظام الدین اولیاء رضی الله تعالٰی عنہما۔(ملخصًا) والله تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۶۰: از ناگور مارواڑ دکان سید محمد صدیق لعل محمد سوداگران مرسلہ حضرات مذکورین ۸جمادی الاولٰی ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع