30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ولم یقل لایکفر لانہ عقد علی ایمان [1]۔ |
سکا تو وہ کافر نہیں کیونکہ ا س نے ایمان کے ارادے سے یہ کہا(ت) |
اسی طرح خزانۃ المفتین میں ہے:آثراعنہ الی(عہ)لایکفر[2] (اسی کے عدم کفر کو ترجیح حاصل ہے۔ت)
اسی طرح فتاوٰی بزازیہ و شرح ملتقی الابحر میں ہے،ہاں شاعر نے اسی قتصار میں تقصیر ضرور کی علماء تو یہاں تك فرماتے ہیں کہ اس لا کا مدطویل نہ کرے کہ صورت نفی سے جلد جانب تصریح اثبات منتقل ہوجائے اس نے اتنی دیر کی کہ صورت نفی مصرع اول میں رکھی اور تصریح اثبات چھ لفظوں کے فاصلہ سے مصرع دوم میں اسے یوں کہنا تھا اشہدان الاالہٰ غیرہ ہے اس پر نقش۔
اسی طرح بکر سنی کے شعر مذکور پر اعتراض جہل فاضح یا عناد واضح ہے حب الوطن من الایمان [3](وطن کی محبت ایمان کا حصہ ہے۔ت)نہ حدیث سے ثابت نہ ہرگز اس کے یہ معنی، اس کا یہ معنی امام بدرالدین زرکشی نے اپنے جز اور امام شمس الدین سخاوی نے مقاصد حسنہ اور امام خاتم الحفاظ جلال الدین سیوطی نے الدرالمنتشرہ میں بالاتفاق اس روایت کو فرمایا:لم اقف علیہ[4](میں ا س سے آگاہ نہیں ہوسکا۔ت) امام سخاوی نے اس کی اصل ایك اعرابی بدوی اور حکیمان ہند کے کلام میں بتائی کما یظھر بالرجوع الیہ(جیسا کہ اس کی طرف رجوع سے ظاہر ہے۔ت)الله عزوجل نے قرآن عظیم میں اپنے بندوں کی کمال مدح فرمائی جو الله و رسول جل وعلا وصلی الله تعالٰی علیہ وسلم کی محبت میں اپنا وطن چھوڑیں،یار ودیار سے منہ موڑیں،اور ان کی سخت مذمت فرمائی جو جب وطن لئے بیٹھے رہے اور الله ورسول کی طرف مہاجر نہ ہوئے۔
|
قال اﷲ تعالٰی"اِنَّ الَّذِیۡنَ تَوَفّٰىہُمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ ظَالِمِیۡۤ اَنْفُسِہِمْ قَالُوۡا فِیۡمَ کُنۡتُمْ ؕ قَالُوۡا کُنَّا مُسْتَضْعَفِیۡنَ فِی الۡاَرْضِ ؕ قَالُوۡۤا اَلَمْ تَکُنْ |
الله تعالٰی نے فرمایا:بیشك ملائکہ جن کی جان نکالتے ہیں ا س حال میں کہ وہ اپنی جانوں پر ظلم کررہے تھے فرشتے کہتے ہیں تم کاہے میں تھے،کہتے ہیں ہم اس بستی میں |
عہ:وھکذا فی الاصل لعلہ"انہ"۔
[1] جامع الفصولین الفصل الثامن والثلاثون فی مسائل کلمات الکفر اسلامی کتب خانہ کراچی ۲/۲۹۸
[2] مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر باب المرتد داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۶۸۹
[3] الدارالمنتشرۃ فی الاحادیث المشتہرۃ حرف الحاء حدیث ۱۸۹ المکتب الاسلامی بیروت ص۱۰۰
[4] المقاصد الحسنہ للسخاوی حدیث ۳۸۶ دارالکتب العلمیہ بیروت ص۱۰۹،الدررالمنتشرۃ فی الاحادیث المشتہرۃ حروف الحاء حدیث ۱۸۹ المکتب الاسلامی بیروت ص۱۰۰
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع