30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خارج ہے میرے پاس آئی،اس لئے کہ منسوب الیہ اگرچہ لفظی طورپر فعل سے موخر ہے لیکن وجودی طورپر فعل سے مقدم ہے کیونکہ منسوب اور منسوب الیہ اس نسبت سے مقدم ہوتے ہیں جو دونوں میں پائی جاتی ہے اور یہ نسبت وہ ہے جس پر فعل دال ہے تو استثناء میں جب منسوب الیہ یعنی مستثنٰی منہ اور الاّ اور مستثنٰی تین چیزیں ہیں تو لازمی طور پر یہ تین فعل والی نسبت سے پہلے ہوں گے لہذا اب دخول وخروج نسبت سے قبل ہوا تو تناقص نہ رہا۔ت)
اقول: حاصل یہ ہے کہ لفظ مافی النفس سے تعبیر ہوتے ہیں یہاں اگر یوں ہو کہ متکلم نے اولًا نفی عام بلاد استثناء کی اور جزء اول سے تعبیر کیا پھر اس عام میں سے مستثنٰی کو جداکیا اوراس پر جزء استثنا سے دلالت کی توصریح تناقص ہے کہ یہ دوحکم متنافی ہوئے لا سالبہ کلیہ تھا اور یہ موجبہ جزئیہ او ر وہ دونوں نقیض ہیں،ایسا ہر گز نہیں بلکہ وہاں صرف حکم واحد ہے متکلم نے ایك مفرد کلی کو کہ مرتبہ لابشرط شے میں تھا مستثنٰی سے فارغ کرکے مرتبہ بشرط لا شی میں لیا اور اس مقید پر حکم واحد کیا بے ادخال لا والا سے معبرکیا لاحکم ہے اور الاّقید مسند الیہ کہ اس کے مرتبہ بشرط لا پر دال تو یہ لاہر گز نفی جمیع کے لئے نہیں بلکہ نفی ماورائے مستثنٰی کے لئے تو مافی الذھن یقینا حق ہے،ہاں تقیید پر دلالت درکار،وہ اگر نفس کلام میں نہ ہوتی تو کلام کی ترکیب مشہور ومعروف کا مسلمان میں دائر وسائر،اور قائل کا مسلمان ہونا خودہی دلالت کرتا کہ یہ تنگی شعر کے سبب بعض کلام پر اختصار ہے اور مراد یقینا مجموع جیسے ہے بےتنگی کلام قلیا اور لن تنا کہتے ہیں اور مراد سورہ کافرون وپارہ چہارم،مسلمان اگر ابنت الربیع البقل (موسم بہار نے سبزہ اگایا۔ت)کہے تو اس کا سلام ہی تجوز پر قرینہ ہے،اس سے یہ گمان کہ اس نے خود فصل بہار کو سبزی کا خالق ماناہے،ہر گز مسلم عاقل کو نہیں ہوسکتا کما نصوا علیہ وصرح بہ فی الفتاوی الخیریہ وغیرہا(جیسا کہ اس پر علماء نے تصریح موجود ہے اور فتاوٰی خیریہ وغیرہ میں یہ تصریح موجود ہے۔ت)نہ کہ یہاں نفسی کلام میں معنٰی صحیح کی صاف تصریح موجود ہے کہ مصرع دوم میں صاف توحید بتائی اور یہ ہی اول سے مراد ٹھہرائی،اگر معاذالله نفی مطلق ہوتی توحید کب رہتی تعطیل ہوتی،توحید تو ایك کا اثبات ہے نہ کہ معاذالله عام نفی تام،تو ثابت ہوا کہ اس پرحکم الحاد اگر از قبیل کل اناء یترشح بما فیہ(ہر برتن وہی کچھ باہر پھینکتا ہیے جو اس میں ہو۔ت)نہ ہو تو جنون خالص ہے۔لاجرم جامع الفصولین فصل ۳۸ میں ہے:
|
من قال لاالہ وارادان یقول الا اﷲ |
جس نے لا الہ کہا الا الله ارادہ کے باوجود نہ کہہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع