30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس کی عبارت بالتلخیص یہ ہے:
ان قلنا انہ داخل فی القوم والاء لاخراج زید منہم بعدالدخول کان المعنی جاء زید مع القوم ولم یجئ زید وھذا تناقض ظاہر،ینبغی ان یجنب کلام العقلاء عن مثلہ،وقدورد فی الکتاب العزیز من الاستثناء شیئ کثیر کقولہ تعالٰی فلبث فیھم تلد الخمسین عاما فیکون المعنی لبث الخمسین فی جملۃ الالف ولم یلبث تلك الخمسین تعالی اﷲ عن مثلہ علوا کبیرا(الٰی ان قال)فزبدۃ الکلام ان دخول المستثنی منہ ثم اخراجہ بالا واخواتھا انما کان قبل اسناد الفعل اوشبھہ الیہ فلایلزم التناقص فی نحوجاء فی القوم الازیدا لانہ بمنزلۃ قولك القوم المخرج منھم زید جاؤنی وذلك لان المنسوب الیہ وان تأخر لفظا لابدلہ من التقدم وجودا علی النسبۃ التی یدل علیہا الفعل اذ المنسوب الیہ والمنسوب سا بقان علی النسبۃ بینھا ضرورۃ ففی الاستثناء لما کان المنسوب الیہ ھو المستثنٰی منہ مع الاوالمستثنٰی فلا بدمن من وجود ھذہ الثلثۃ قبل النسبۃ فلا بد ذلك اذن من حصول الدخول والاخراج قبل النسبۃ فلا تناقص [1] اھ۔
(اگر ہم یہ کہیں کہ جاء نی القوم الازیدا میں زید قوم میں شامل ہے اور الا اس کو قوم میں شامل ہونے کے بعد نکالنے کے لئے ہے تو معنٰی یہ ہوگا،کہ زید قوم کے ساتھ آیا اور نہ آیا۔یہ واضح تناقص ہے لہذا ایسا متناقص کلام عقلاء سےمتصور نہیں ہوسکتا حالانکہ قرآن پاك میں یہ استثناء کثیر موجود ہے جیسے الله تعالٰی کا ارشاد ہے کہ نوح علیہ السلام اپنی قوم میں ہزار برس بغیر پچاس کے ٹھہرے،تومعنٰی یہ ہوئے کہ آپ پچاس سمیت مجموعہ ہزار ٹھہرے،اس واضح تناقص سے الله تعالٰی پاك ہے،آگے انھوں نے یہ تك کہا خلاصہ کلام یہ ہے کہ مستثنٰی منہ میں دخول اور الاّ اور دیگر حروف کے ساتھ پھر اس کو خارج کرنا فعل یا شبہ فعل کے اسناد سے قبل ہوتاہے تو اب جاءنی القوم لا زیدا جیسی مثالوں میں تناقص لازم آئے گا،کیونکہ اب معنی یوں ہوا"قوم جس سے زید
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع