30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ثانیا: بلکہ اب بھی مسلمان ہونا بخیرکہ اس وقت الا الله کہہ لیا تو کیا ہوا،اس کا پھر ارادہ ہے کہ یہی کلمہ سرے سے پڑھے اور پہلے جز سے خدا کی نفی مطلق کرکے کافر ہو تو کفر سے رجوع کب ہوئی جب کہ پھر عزم کفر موجود ہے اورعزم کفر فی الحال کفر ہے۔
ثالثا: قرآن عظیم میں کس قدر کثرت سے لا الہ الا الله و لا الہ الا ھو وار دہے،اگر پہلے جز میں نفی عام الوہیت ہر الہ ہے جیسے کہ معترض کا خیال تبع ہے تو معاذالله قرآن کریم نے صدہا بار الوہیت رب العزت کی نفی فرمائی اور ہر بار نفی کرکے اثبات فرماکر تنا قضوں کی ٹھہرائی،تعالی الله عن ذٰلك علوا کبیرا [1](الله تعالٰی اس سے بلند ہے۔ت)
رابعًا: معترض کے طور پر معاذالله سب کلمہ گو جن میں بزعم معترج خود معترض بھی داخل فاسد النکاح ہوں اور ان کی اولاد اولاد الزنا کہ جب پہلا جزء کہا کافر ہوگئے،نکاح ٹوٹ گئے اور الا الله کہنے سے اگرچہ اسلام عو بھی کرائے ٹوٹا نکاح تو نہیں جڑتا تب تك از سر نو نہ وہ اور ہ ونہ ہوا تو سب بے نکاحی رہیں اور اولاد والدالحرام۔
خامسًا: معترض کے نزدیك نزع روح کے وقت کلمہ طیبہ کی تلقین سخت حرام وبدخواہی اہل اسلام ہو اپنے آپ تو کافر ہوہو کر الا الله سے مسلمان ہولئے اس پر کیا بھروسہ ہے کہ پہلے ہی جز پر روح پر واز کر جائے یا زبان بند ہوجائے تو معاذالله کافر مرے۔
سادسًا: اس کے یہ معنی سمجھنا اسلام پر کیسا سخت الزام پر عبارت صحیح بتانے سے معاذالله عجز کا اتہام ہے کہ ایمان کا آغاز کفر سے رکھا لا الہ الله کی جگہ کلمہ طیبہ یوں کیوں نہ بتایا ان اﷲ ھو الا لہ وحدہ لاشریك لہ لیس غیرہ من الہ یہ خالص اسلام ہوتا اور معترض کا کفر والحاد راہ نہ پاتا۔
بالجملہ اس کے یہ معنی سمجھنا کہ نہیں ہے کوئی خدا،عاقل سے معقول نہیں بلکہ بلاشبہ ا س کے معنی نفی الوہیت غیر خدا ہیں یقینا قطعا مسلمان جس وقت اس سے تلفظ کرتاہے یہی مراد لیتاہے تو بحمدالله تعالٰی اس کے دونوں جزعین ایمان ہیں،پہلا جز الوہیت غیرخدا کی نفی اور دوسرا جز الوہیت الٰہ حق کا اثبات اور دو نوں ایمان ہیں۔رضی نے کہ نحو وعربیت کا بڑا محقق اور مذہب کا شیعی تھا،اس کی تحقیق کی اور بتادیا کہ یہاں ہرگز نفی عام نہیں۔ورنہ تناقص لازم آئے بلکہ ماوراء مستثنٰی کی نفی ہوتی ہے،شرح کافیہ میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع