30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مملکتك ھوق موضع الملك شبہ بمجتمع العرس ومافیہ من الاحتقال والتناہی فی الصنیع والتانق فی محسناتہ وترتیب امورہ وکونہ جدیداظریفا واھلہ فی فرح وسرور نعمۃ وحبور فرحین بعروسھم راضین بہ محبین مکرمین لہ،موتمرین لامرہ متنعمین لہ بانواع المشتھیات بدلیل اثبات اللازم الذی ھوا العروس،والمعہود تشبیہ مجتمع العرس بالمملکۃ وعکس التشبیہ ھنا لاقتضاء المقام ذلك لیفید ان سرالمملکۃ ونکتتھا ومعناھا الذی لاجلہ کانت ھو المصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کما ان سرمجتمع العرس ونکتتہ ومعناہ الذی لاجلہ کان ھوالعروس والمصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ھوالانسان الکبیر الذی ھوالخلیفۃ علی الاطلاق فی الملك والملکوت قد خلعت علیہ اسرار الاسماء والصفات ومکن من التصرف فی البسائط والمرکبات والعروس یحاکی شانہ شان الملك والسلطان فی نفوذ الامر وخدمۃ الجمیع لہ وتفرعنھم لشانہ ووجدانہ مایجب ویشتھی مع الرای واصحابہ فی مؤنتہ وتحت اطعامہ فتم التشبیہ وتمکنت الاستعارۃ [1]۔
اس عبارت سراپا بشارت کا خلاصہ یہ ہے کہ امام محمد بن سلیمان جزولی قدس سرہ الشریف نے اس درود مبارك میں سلطنت کو برأت کے مجمع سے تشبیہ دی کہ اس میں کیسا اجتماع ہوتاہے اوراس کی آرائش انتہاء کو پہنچائی جاتی ہیں،سب کام قرینے سے ہوتے ہیں۔ہر چیز نئی اور خوش آئند لوگ اپنے دولھا پر شاداں وفرحاں اسے چاہنے والے اس کی تعظیم واطاعت میں مصروف اس کے ساتھ قسم قسم کی من مانتی نعمتیں پاتے ہیں۔اور عادت یوں ہے کہ برأت کے مجمع کو سلطنت اور دولھا کو بادشاہ سے تشبیہ دیتے ہیں یا اس کا عکس کیا کہ سمجھا جائے کہ جس طرح برات کے مجمع کا مغز وسبب دولھا ہوتاہے یوہیں تمام مملکت الٰہی کے وجود کا سبب اوراس کے اصل راز ومغز ومعنٰی صرف مصطفی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ہیں ع
دولھا کے دم کے ساتھ یہ ساری برات ہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع