30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کہیں عاشق ہوئے پھرے دیوانا کہیں معشوق محبوب یگانہ
کہیں عابد ہوکرے عبادت کہیں زاہد ہوکرے ریاضت
کہیں مؤذن بانگ سناوے آپ ہی آپ کو سیس نواوے
کہیں برہمن سنکھ بجایا آپ ہی اپنا مرجس گایا
کہیں رند ہوا شرابی راگ رنگ جنگ ربابی
کون ہے آدم کون ہے ابلیس کون سلیمان اور بلقیس
یہ سب انچھر وہ ہے معنا پہن لیا ہے ایسا بانا
یہ سب روپ اسی نے دھارے ایك ایك سے بھی نیارے
ص ۳:
ایك نے اتنے نام دھرائے ایك ایك سے بھی نیارے
اول ہوکر آخر ہوا ظاہر ہو کر باطن بیا
کہیں واجب معبود کہلایا کہیں ممکن بندہ بن آیا
جیسے جل کر برف بنائی جل بن اس میں ا ور نہ کائی
جوں حباب دریا سے اٹھے آخر اس کا اس میں میٹے
بیرنگی بہ رنگ لے آیا ہر ہر نتھہ میں آپ پوجایا
مکھ پر چادر میم کی رکھ کر آپ غفور احمد اپنا نام دھر جگ میں کیا ظہور
نجما دیکھ اس یار کی رمزوں کی دستور ہر رنگ میں بیرنگ رہا دو رکا دور
ص ۴۷:پھر جس شخص نے خلق اور خالق کو دو سمجھے اور ایك نہ جانا وہ مشرك ہے کہ مبتلا ہوا بیچ شرك خفی کے،اور جس شخص نے کہا ذات کو ساتھ فردیت کے یعنی خلق اور خالق کو ایك سمجھا وہ موحد ہے۔
ص ۵۹:اے عزیز چھٹا مرتبہ انسان کامل کا ہے وہ مشرك ہے مرتبوں ذاتی اور خلق میں یعنی اگر اس تعین بشریت کے خیال سے اس کو دیکھے تو آد می اور اگراس کی کمالیت فقر کی طرف دیکھے تو الله تعالٰی ہے بموجب ا س قول کے،قول صوفیہ:اذااتم الفقر فھواﷲ(جب فقر مکمل ہوا تو الله ہوا۔ت)
ص ۱۱۹ ص ۱۲۰:نقل ہے کہ جب حضرت شیخ محی الدین ابن عربی نے درس توحید شروع کیا اور مسئلہ وحدۃ الوجود کو ظاہر فرمانے لگے۔چنانچہ یہ رباعی ان کی تصنیف ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع