30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وقال تعالٰی"وَمَنۡ یَّبْتَغِ غَیۡرَ الۡاِسْلٰمِ دِیۡنًا فَلَنۡ یُّقْبَلَ مِنْہُۚ وَہُوَ فِی الۡاٰخِرَۃِ مِنَ الْخٰسِرِیۡنَ﴿۸۵﴾"[1]۔ |
اور الله تعالٰی نے فرمایا:اور جو اسلام کے سوا کوئی دین چاہے گا وہ ہرگز اس سے قبول نہ کیا جائیگا اوروہ اخرت میں زیاں کاروں سے ہے۔(ت) |
بالجملہ واعظ مذکور کے کفر میں کوئی شك نہیں اور اس کے پیچھے نماز ایسی ہے جیسی گاندھی کے پیچھے،اس کی عورت نکاح سے نکل گئی،اسے واعظ بنایا اس کا وعظ سننا درکنار مسلمانوں کو اس سے میل جول اس کے پاس اٹھنا بیٹھنا،اس سے سلام کلام،اس کی موت وحیات میں کوئی معاملہ اہل اسلام سب یکسر حرام جب تك وہ اپنے کلمات ملعونہ سے توبہ کرکے اسلام نہ لائے۔والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۴۶: مسئولہ حکیم عبدالرحمن محلہ جمال پورہ مقال سون پت ضلع رہتك ۱۱ شوال امعظم ۱۳۳۴ھ
منبع الفضل وبرکات الزمان مولانا احمدر ضاخان ادامہ الله تعالٰی بالفیض والاحسان،السلام علیکم ورحمۃ الله تعالٰی،اما بعد واضح رائے عالی ہو کہ بسط البنان کے رد میں آنجناب کے دو رسالہ"ادخال السنان"اور"واقع اللسان"دیکھے جن کے مطالعہ سے تمام شکوك رفع ہوگئے اور اپ کی اقصی مراتب کی تحقیق سے دل خوش ہوا،اما ایك یہ شبہ باقی رہ گیا ہے امید ك اس معما کو عما فہم عبارت میں کارڈ ملصقہ پر حل فرماکر تشفی فرمائیں گے،شبہ یہ ہےکہ چونکہ"ادخال السنان"کے تمام دلائل سے تو حضور سرور کائنات علیہ افضل التحیات کا عالم الغیب ہونا بماکان وبمایکون کاپیش از وفات ہی باحسن طریقہ ثابت ہوگیا،لیکن مشکوٰۃ شریف کے باب الشفاعت میں صحیحین کی حدیث میں یلھنی محمامدہ احمدہ بھا لاتحضرنی الاٰن [2](مجھے ایسے محامد کا الہام ہوگا جن کا اس وقت مجھے علم نہیں۔ ت)سے معلوم ہوتاہے کہ یہ محامدہ وثنا مستثنٰی ہیں یعنی بہ محامد حضرت کو قیامت کے اس وقت خاص سے پیشتر نہیں عطا کئے گئے کیونکہ ترمذی شریف میں اسی باب میں لم یفتحہ علی احد قبلی [3](مجھ سے پہلے کسی کو عطا نہیں کی گئیں۔ت)فرمایا ہے۔اور شیخ دہلوی رحمۃ الله تعالٰی علیہ نے اس کی شرح اشعۃ اللمعات میں اسی طرح کی ہے:
|
ہم دران وقت نورے خاص از مقام قرب و معرفت در دل من افتد کہ علم آن محامد |
مقام قرب ومعرفت سے اس وقت میرے دل میں ایك نور خاص پیدا ہواگا جو ان |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع