30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
فعل ناجائزکہ صرف گناہ ہو محض اس کی وجہ سےکفر کا فتوٰی دینا سید وغیر سید کسی پر بھی جائز نہیں والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۴۱ تا ۴۲: از جمشید پور ڈاك خانہ خاص ضلع سنگھ بھوم آفس کارکمبے مسئولہ حمید الله ۹ شوال ۱۳۳۹ھ
(۱)مسلمان یا ہندو کسی مسلمان کا نام لے کر کہیں کہ فلاں شخص کی جے۔جیسے شوکت علی محمد علی کی جے،یہ درست ہے یا نہیں؟
(۲)شوکت علی وغیرہ کے مجلسوں میں جانادرست ہے یا نہیں؟ اورلفظ مہاتما کہنا جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب:
(۱)جے جو کافر بولتے ہیں جیسے گاندھی وغیرہ کی یاعام ہنود کی،یہ بحکم فقہائے کرام کفر ہے،درمختار وغیرہ میں ہے:تبجیل الکافر کفر [1](کافر کی تعظیم کفر ہے۔ت)یونہی جو نام کا مسلمان حد کفر تك پہنچ گیا ہو اس کی جے کا بھی یہی حکم ہے،اور مسلمان کی جے بولنا بھی منع ہے کہ کفار سے مشابہت ہے۔
(۲)مشرك کو مہاتما کہنا حرام ہے بلکہ بحکم فقہائے کرام کفر ہے اور ان کے جلسوں میں جانا ناجائز۔والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۴۳: از محلہ سوداگران مسئولہ حضرت ننھے میاں صاحب مدظلہم ذی القعدہ ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امام نے یہ رکوع "یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُوۡنُوۡۤا اَنۡصَارَ اللہِ"[2] (اے اہل ایمان! ہوجاؤ الله تعالٰی کے مددگار۔ت)پڑھا پھر من بنی اسرائیل کی جگہ منکم کہہ گیا۔ زید نے بعد سلام کہا کہ قرآن عظیم صحابہ کرام رضوان الله علیہم اجمعین سے فرماتاہے:الله کے مددگار ہوجاؤ،پھر بنی اسرائیل کی حالت دکھائی جاتی ہے کہ ایك گروہ ان میں سے ہمارا فرمانبرادر ہوا ور ایك فرقہ نے کفر کیا منکم کی ضمیر گویاانصار الله ك طرف تم نے راجع کی تو معاذالله صحابہ کے دو گروہ ہوگئے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع