30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تحسین وتبریك اور ایسی مجالس میں شرکت کرتاہوں جوخلافت کی تباہی وبربادی کے واسطے کی جاتی ہوں،اس سے تمام اہل اسلام کے قلوب متنفر ہوں کیا اس کے پیچھے نماز جائزہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب:
اگر یہ باتیں واقعی ہیں کہ وہ معاذالله شکست اسلام پر مسرت کرتاہے اور قاتلان مسلمین کی تحسین،تو اس کی قابلیت امامت درکنار اس کے اسلام ہی میں کلام ہے،باقی وہ ناجائز طریقے جو مدعیان حمایت نے نکال رکھے ہیں اورجس میں مشرکین سے محبت وداد بلکہ اتحاد بلکہ غلامی وانقیاد برت رہے ہیں،وہ سب مخالف قرآن عظیم ہیں،مسلمانوں کو ان سے جدائی فرض ہے،
|
قال اﷲ تعالٰی " لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوۡنَ بِاللہِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوۡنَ مَنْ حَآدَّ اللہَ وَ رَسُوۡلَہٗ وَ لَوْ کَانُوۡۤا اٰبَآءَہُمْ اَوْ اَبْنَآءَہُمْ اَوْ اِخْوٰنَہُمْ اَوْ عَشِیۡرَتَہُمْ ؕ "[1]۔ |
الله تعالٰی نے فرمایا:تم نہ پاؤ گے انھیں جو ایمان رکھتے ہیں الله وقیامت پر کہ الله ورسول کے مخالفوں سے دوستی کریں اگرچہ ون ان کے باپ یابیٹے یا بھائی یا عزیز ہوں۔ |
اور فرماتاہے:
|
"وَلَوْ کَانُوۡا یُؤْمِنُوۡنَ بِاللہِ والنَّبِیِّ وَمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡہِ مَا اتَّخَذُوۡہُمْ اَوْلِیَآءَ"[2]۔ |
اور اگر انھیں الله اور نبی اور قرآن پر ایمان ہوتا تو کافروں کو اپنا دوست یا مدد گار نہ بناتے۔والله تعالٰی اعلم۔ |
مسئلہ ۳۶ و ۳۷: ازسہسرام محلہ پرتالہ ضلع آرہ مسئولہ قدرت الله صاحب ۵ شوال ۱۳۳۹ھ
(۱)کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے اثنائے تقریر میں کہا کہ غلاف کعبہ جلادیا گیا،دوسرے نے کہا کیا ہوا دوسرا غلاف آجائے گا۔اس پر کہا گیا کہاں سے آئے گا،قسطنطیہ سے تو نہیں آسکتا۔تو اس نے جواب دیا کیا کعبہ کو جاڑا لگتاہے،ایسا کہنے والے کے لئے عندالشرع کیا حکم ہے؟
(۲)خلیفۃ المسلمین کے لئے احکام کو ماننا یا ان کی مدد کرنا ان کے وقار کو قائم رکھنا اندر حدود والوں پر فرض ہے یا ہندوستانیوں پر بھی؟ بینوا تو جروا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع