30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
مسجود خو د میداند وبیند واگر فرضا نفی کند منتفی نمیگردد محبت اطوارایں دولت متمنائے طلاب ست از ہزاران یکے رامگر بد ہند صاحب ایں معاملہ مستعد تام المناسبۃ ست یحتمل کہ باندك صحبت شیخ متقدا جمیع کمالات او راجذب نماید رابطہ راچرا نفی کنند کہ او مسجود الیہ است نہ مسجود لہ چرامحاریب و مساجد رانفی نہ کنند وظہور ایں قسم دولت سعادتمندان رامیسر است تادرجمیع احوال صاحب رابطہ را متوسط خود دانند ودرجمیع اوقات متوجہ او باشند نہ درنگ جماعہ بیدولت کہ خود رامستغنی دانند وقبلہ توجہ را از شیخ خودمنحرف ساز ند و معاملہ خود رابرہم زنند [1]۔ |
میں اپنا مسجود جانتے اور دیکھتے ہیں اور اگر ا س رابطہ کو ختم کرنے کی کوشش کریں تو بھی ختم نہیں ہوتا(تواس پر آپ نے فرمایا)اس دولت کے حصول کی خواہش ہزاروں طالبوں کی تمنا ہے مگر کسی ایك کو عطا ہوتی ہے،اس کیفیت والاشیخ سے مکمل مناسبت کے لئے مستعد ہوتاہے وہ امید کرتاہے کہ اپنے مقتداشیخ کی صحبت کی کمی ا سکے تمام کمالات کو جذب کر دے گی لوگ رابطہ(تصور شیخ)کی نفی کیوں کرتے حالانکہ وہ مسجود الیہ ہے مسجود لہ نہیں ہے یہ لوگ محرابوں اور مسجودوں کی نفی کیوں نہیں کرتے(حالانکہ وہ مسجود الیہ ہیں)اس قسم کی دولت کا ظہور سعاتمندوں کو نصیب ہوتاہے حتی کہ تمام احوال میں وہ صاحب رابطہ(شیخ)کواپنا وسیلہ جانتے ہیں اور ہمہ وقت ا س کی طرف متوجہ رہتے ہیں اس بے دولت جماعت کی طرح نہیں ہوتے جواپنے آپ کو شیخ سے مستغنی جانتے ہیں اور اپنی توجہ کا قبلہ شیخ سے پھیر کر خود سر ہوجاتے ہیں۔(ت) |
سبحان الله! کہاں تو اس شخص کا وہ کفری بول کہ نماز میں محمد رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کا خیال آیا اور خاکش بدہن شرك نے منہ پھیلایا،نہ فقط نماز برباد کہ ایمان ہی ابتر،تف بر روئے کا فروش و کفر ان کے(بدگویوں کی)طرف خیال لے جانا اپنے بیل اورگدھے کے نہ صرف تصور بلکہ ہمہ تن اس میں ڈوب جانے سے بدر جہانج بدتر اور کہاں شیخ طریقت وآقائے نعمت وخداوند دولت خاندان دہلی حضرت شیخ مجدد کایہ واشگاف قول کہ تصور صورت شیخ سے غافل نہ ہونمازوں عبادتوں سب وقتوں حالتوں میں اسی کی طرف متوجہ رہو اگرچہ عین نماز میں اسی صورت کو سجدہ محسوس ہو کہ وہ قبلہ عبادت ہے،نہ مسجودلہ،جو اس قبلہ سے پھرا وہ بے دولت تباہ ہوا اس کا کام بربادہوگیا تصویر شیخ کی ایسی دولت سعادت مندوں کو ملتی ہے طالبان خداس کو ا س کی بہت تمنا رہتی ہے غرض وہ بول یہ قول باہم لڑے ہیں کفر وشرك کے عقاب پرتولے کھڑے ہیں،دیکھئے وہابی صاحب کدھر ڈھالتے ہیں ادھر جھکاتے ہیں یا ادھر ڈالتے ہیں ؎
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع