30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
است وندانی کہ ارباب ایں کمال از عالم منقطع شدہ اند [1]۔ |
از قبیل اختراع بدعت ہے اور یہ بھی نہ سمجھنا کہ اس کمال کے لوگ دنیا سے ختم ہوچکے ہیں۔(ت) |
یہاں صاف تصریحیں ہیں کہ ان کے بعض خیال اولیاء کو احکام شریعت بے وساطت انبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام وحی باطنی سے پہنچتے ہیں وہ احکام شریعت میں ایك وجہ سے خود محقق اور پیروی انبیاء سے مستغنی ہوتے ہیں وہ مثل انبیاء معصوم ہوتے ہیں۔
اقول: اور احکام شریعت میں بھی کلیہ کی تصریح کردی کہ کوئی ناواقف دھوکا نہ کھائے کہ یہ لوگ مجتہدین امت سے ہیں اگرچہ بے وساطت انبیاء حکم پہنچنا ہی اخراج مجتہد کوبس تھا مگر زیادت فرق وکمال صراحت کے لئے احکام کلیہ کا اونچا طرہ چمکتاپھندنا لٹکا دیا کہ احکام کلیہ شرعیہ تو نبی ارشاد فرما تاہے مجتہد کی اتنی شان کہ ان سے احکام جزئیہ استنباط کرتاہے،یہاں ایسا نہیں بلکہ انھیں خود احکام کلیہ شریعت بے وساطت نبی بذریعہ وحی پہنچتے ہیں مسلمانو! خدا کے واسطے اور نبی کسے کہتے ہیں یہ صراحۃ غیر نبی کو نبی بنایا کہ صریح کفرہے اور نبی بھی کیسا صاحب شریعت۔تفسیر عزیزی شاہ عبدالعزیز صاحب سورہ بقرہ ص ۴۴۳:
|
معرفت احکام شرعیہ بدون تو سیط نبی ممکن نیست [2]۔ |
شرعی احکام کی معرفت انبیاء کی وساطت کے بغیر ممکن نہیں۔ (ت) |
تحفہ اثنا عشریہ شاہ صاحب موصوف مطبع کلکتہ ۱۲۴۳ھ ص ۱۴۰:
|
انچہ گفتہ است کہ فاطمہ بنت اسد راوحی آمد کہ درخانہ کعبہ برود ووضع حمل نماید در وغیست پر بیمزہ زیرا کہ کسے از فرق اسلامیہ وغیر اسلامیہ قائل بہ نبوت فاطمہ بنت اسد نشدہ [3]۔ |
جوکہا جاتاہے کہ فاطمہ بنت اسد کو وحی آئی کہ تو خانہ کعبہ میں جا اور وہاں بچے کی پیدائش کر یہ سب جھوٹ اور بے پر بات ہے کیونکہ کوئی بھی اسلامی اور غیر اسلامی فرقہ فاطمہ بنت اسد کی نبوت کا قائل نہیں ہے۔(ت) |
الدرالثمین شاہ ولی الله صاحب مطبع احمدی ص ۵:
|
الامام عندھم ھو المعصوم المفترض |
رافضیوں کے نزدیك امام وہ ہے کہ معصوم اور اس کی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع