30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
تکذیب نصی از نصوص نگرد دو سلب قرآن مجید بعد انزال ممکن است [1]۔ |
کی تکذیب کاسبب نہیں ہوسکتا جبکہ نزول قرآن کے بعد قرآن کا سلب ہوجانا ممکن ہے۔(ت) |
یہاں صاف بے پردہ اقرار کردیا کہ الله عزوجل کی بات واقع میں جھوٹی ہوجائے تو کچھ حرج نہیں حرج ا س میں ہے کہ بندے اس کے جھوٹ پر مطلع ہوں اگر انھیں بھلاکر اپنی بات جھوٹی کردے تو تکذیب کہاں سے آئے گی اب کسی کو وہ نص یاد ہی نہیں کہ جھوٹ پر اطلاع پائے۔شفا شریف مطبع صدیقی ص ۳۶۱:
|
من دان بالوحدانیۃ وصحۃ النبوۃ ونبوۃ نبینا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وعلی الہ وسلم ولکن جوز علی الانبیاء الکذب فیما اتوا بہ ادعی فی ذلك المصلحۃ بزعمہ اولم یدعھا فھو کافر باجماع [2]۔ |
جو الله تعالٰی کی وحدانیت،نبوت کی حقانیت،ہمارے نبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کی نبوت کا اعتقادرکھتا ہو اینہمہ انبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام پر ان باتوں میں کہ وہ اپنے رب کے پاس سے لائے کذب جائز مانے خواہ بزعم خود اس میں کیسی مصلحت کا ادعاء کرے یا نہ کرے ہرطرح بالاتفاق کافر ہے۔(ت) |
حضرات ابنیاء علیہم افضل الصلٰوۃ والثناء کا کذب جائزجاننے والا بالاتفاق کافرہوا الله عزوجل کا کذب جائز ماننے والا کیونکر بالاجماع کافر ومرتد نہ ہوگا!
کفریہ سوم:صرامستقیم مطبع ضیائی ۱۲۸۵ھ ص ۱۷۵ اپنے پیر کی نسبت لکھا:
|
روزے حضرعت جل وعلا دست راست ایشاں رابدست قدرت خاص خود گرفتہ وچیزے را از امور قدسیہ کہ بس رفیع وبدیع بود پیش روئے حضرت ایشاں کردہ فرمودہ کہ ترا ایں چنیں دادہ ام وچیز ہائے دیگر خواہم داد [3]۔ |
ایك روزہ الله تعالٰی نے اس حضرت کا دایاں ہاتھ اپنے دست قدرت میں پکڑا اور امور قدسیہ کی ایك بلندوبالا عجیب چیز کو پیش کرکے فرمایا تجھے یہ دیااور اس کے علاوہ اور چیز یں بھی دیں گے۔(ت) |
ص ۱۳:مکالمہ ومسامرہ بدست می آید [4](ہم کلامی اور باتیں حاصل ہوئیں۔ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع