30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الہٖ وصحبہ فی دارالسلام،ایہا المسلمون! پیش از جواب اتنا عرض کروں کہ اس تحریر سے مقصود دوامر محمود:
اولا: عامہ مسلمین وبرداران دین پر اظہار مبین کہ مذہب وہابیہ ایسی ضلالتوں پر مشتمل،اور ان کا امام وطائفہ ایسی شناعتوں کو موجد وقائل،
ثانیًا: کبرائے وہابیہ پر عرض ہدٰی وخوف خدا کہ دیکھوں کیسے کو امام بناتے ہو،اندھیری رات میں کس مضل مبین کے پیچھے جاتے ہو،تھوڑی دیر کا اندھیرا ہے،دم کے دم میں سویرا ہے ؎
بروز حشر شود ہمچو صبح معلومت کہ باکہ باختہ عشق درشب دیجور
(صبح کی حشر میں تجھے معلوم ہوجائے گا کہ اندھیری رات میں کس سے لڑاتے رہے۔ت)
غصے سے کام نہیں چلتا،بگڑنے سے مذہب نہیں سنبھلتا "اِنَّمَاۤ اَعِظُکُمۡ بِوٰحِدَۃٍ ۚ"[1](میں صرف ایك نصیحت کرتا ہوں۔ت) ایك ذرا تعصب ونفسانیت وحمایت امام وحمیت جاہلیت سے جداہوکر لله فی الله اس تحریر پر نظر کیجئے سب کتابوں کے نشان صفحات بتادئے ہیں جس میں شبہہ ہو تطبیق کرلیجئے،پھر اگرنگاہ انصاف میں تمھارے مذہب وامام مذہب پر یہ الزامات قائم ہوں تو خدا سے ڈرو،کفریات وضلالت پھر اصرار نہ کرو،بد دین کی پیروی کا دم نہ بھرو۔اوراگر اطاقت جواب ہے تو کیوں پیچ وتاب ہے،ہمیں گووہمیں میدان،اظہار حق سے کیوں خائف وترساں آدمی بن کر اور کی سنی اپنی کہی،ایك مکابرہ عناد کی نہیں سہی،یہ ایك نمونہ ہے اس سے فارغ ہو تواور سننا ہے اس سے بھی سلامت نکلے تو اور آگے چلئے یہاں تك کہ حق ایك طرف کھل جائے جید وردی میزان عمل میں تل جائے،اے رب میرے! ہدایت فرما انك انت السمیع القریب وما توفیق الا باﷲ الیہ توکلت والیہ انیب(تو قریب وسمیع ہے،مجھے صرف الله سے توفیق حاصل ہے اور اسی کی طرف لوٹناہے۔ت) بلاشبہہ گروہ مذکور اور اس کے پیشوائے مسطور پر بوجوہ کثیرہ قطعا یقینا کفر لازم اور حسب تصریحات جماہیر فقہائے کرام اصحاب فتاوٰی اکابر واعلام ان پر حکم کفر ثابت وقائم،ان کے عقیدوں مکیدوں مذہبی رسالوں میں بکثرت کلمات کفریہ ہیں جن کی تفصیل کو ذخیرہ درکار،خود ان کے پیشوا نے اپنی کتاب تقویۃ الایمان میں(جسے یہ لوگ معاذالله کتاب آسمانی کی مثل جانتے اور اپنے مذہب کی مقدس معصوم کتاب مانتے ہیں)اپنے اور اپنے سب پیروؤں کے صریح کافر بت پرست ہونے کا صاف اقرار کیا،ہم نے اس سوال کے رود پر خاص اس باب میں ایك مفصل رسالہ مسمی بنام تاریخی الکوکبۃ الشھابیۃ فی کفریات ابی الوہابیۃ لکھا اوراس میں بطور نمونہ ان کے ستر کفریات کا شمار کیا کہ بحوالہ کتاب وصفحہ ان کے پیشوا کی کتابوں سے اقوال نقل کئے،پھر ائمہ کرام وعلمائے عظام کی تصانیف سے اسی طرح بہ نشان صفحات ان باتوں پر حکم کفر مع ترجمہ لکھے،بحمدالله تعالٰی اس رسالہ نے اپنے ناظر کو اس امر کی تحقیق میں کوئی دقت باقی نہ رکھی،صرف اتنا کام رہا کہ جو اپنی انکھوں دیکھا چاہے اس کی کتابوں سے صفحہ کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع