30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مقامات ظاہر ہوتے ہیں بلکہ زمین کیاآسمانوں کے مکانات اور ملائکہ وارواح اور ان کے مقامات اور جنت و دوزخ اور قبروں کے اندر کاحال اور آنے والے واقعات کھل جاتے ہیں یہاں تك کہ عرش فرش سب میں ان کی رسائی ہوتی ہے حتی کہ لوح محفوظ پر اطلاع پاتے ہیں وہ اپنے اختیار سے زمین وآسمان میں جہاں کا حال چاہیں دریافت کرلیں،اور ان سب باتوں کے حاصل کرنے کے طریقے خود ہی اس شخص نے بتائے کہ یوں کرو تو یہ رتبے مل جائیں گے یہ کشف یہ اختیار ہاتھ آئیں گے،اب تقویۃ الایمان کی پوچھئے ص۲۷:
"جوکچھ کہ اﷲ اپنے بندوں سے معاملہ کرے گا خواہ دنیا میں خواہ قبرمیں خواہ آخرت میں سو ان کی حقیقت کسی کو معلوم نہیں نہ نبی کو نہ ولی کو نہ اپنا حال نہ دوسرے کا[1]۔"
صفحہ ۲۵:"ان باتوں میں سب بندے بڑے ہوں یا چھوٹے یکساں بیخبر ہیں اور نادان[2]۔"
صفحہ ۵۷ و ۵۸:"جو کہ اﷲ کی شان ہے اور اس میں کسی مخلوق کو دخل نہیں سواس میں اﷲ کے ساتھ کسی کو نہ ملادے مثلا کوئی شخص فلانے درخت میں کتنے پتے ہیں یاآسمان میں کتنے تارے ہیں تو اس کے جواب میں یہ نہ کہے کہ اﷲ ورسول جانے کیونکر غیب کی
بات اﷲ ہی جانتا رسول کو کیا خبر[3]"۔
سبحان اللہ! وہاں تو پیرجی کے ایك ایك مرید کو زمین وآسمان،جنت و دوزخ حتی کہ قبرکے حالات آئندہ کے واقعات لوح محفوظ وعرش اعظم غرض تن تلوك روشن تھے،عرش و فرش میں ہر جگہ کے حالات کا جان لینا اپنے اختیار میں تھا،خود ان پیر جی کو وہ طریقے معلو م تھے کہ یوں کرو تو یہ سب باتیں روشن ہوجائیں گی مگر معاذاﷲ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی انجانی یہاں تك ہے کہ آسمان کے تارے تو درکنار،کیا دخل کہ ایك پیڑ کے پتے جان لیں،اگر انھیں کوئی کہے کہ وہ کسی درخت کے پتوں کی گنتی جانتے ہیں تو اس نے انھیں اﷲ کی شان میں ملادیا،وہاں تو بندگی کو وسعت تھی یہاں آکر خدائی اتنی تنگ ہوئی کہ ایك پیڑ کے پتے جاننے پر رہ گئی،حق فرمایا اﷲ عزوجل نے: "مَا قَدَرُوا اللہَ حَقَّ قَدْرِہٖ ؕ"[4]اﷲ ہی کی قدرنہ کی جیسی چاہئے تھی،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع