30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صفحہ۳ ۱۱۲:
|
ارباب ایں مناصب رفیعہ ماذون مطلق درتصرف عالم مثال وشہادت مے باشند وایں کبار اولی الایدی والابصار رامے رسد کہ تمامی کلیات رابسوئے خود نیست نمایند مثلا ایشاں رامی رسد کہ بگویند کہ از عرش تافرش سلطنت ماست [1]۔ |
ان بلند منصب والے حضرات عالم والے حضرات علم امثال وشہادت میں تصرف کرنے میں مجاز مطلق ہوتے ہیں،ان طاقتوں اور بصیرت والے اکابرین کو اختیار ہے کہ تمام امور کلیہ اپنی طرف منسوب کرلیں،مثلا ان کوا ختیار ہے کہ وہ عرش تا فرش اپنی سلطنت ہونے کا دعوٰی کریں۔(ت) |
صفحہ۴ ۵۴:
|
دریں مقام بعضے خلیفۃ اﷲ مے باشند خلیفۃ اﷲ اں کسے ست کہ برائے انصرا م جمیع مہام اورامقرر کردہ مانند نائب سازند [2]۔ |
اسی مقام پر بعض حضرات خلیفۃ اﷲ ہوتے ہیں خلیفۃ اﷲ وہ شخص ہوتاہے جو تمام مہمات کے انتظام پر مقرر ہوتاہے اور نائب کی طرح ہوتاہے۔(ت) |
صفحہ۵ ۳۴:
|
او رادرکیف ولایت خودگرفتہ وزیر سایہ کفالت تربیت خود آوردہ جارحہ تدبیر تکوینی تشریعی خود مے سازد [3]۔ |
اس کو اپنی ولایت کے پہلو میں لے کر اس کی تربیت کی کفالت خود کرتے ہیں اور تکوینی وتشریعی امور میں خود تصرف والا بناتے ہیں۔(ت) |
ان پانچ شرکیات میں صاف صاف تصریحیں ہیں کہ ملائکہ واولیاء کاروبار عالم کے مدبر ہیں،اولیاء عالم کے کام جاری کرتے ہیں،اولیاء کو تمام عالم میں تصرف کا اختیار کلی دیا جاتاہے،تمام کام ان کے ہاتھ سے انصرام پاتے ہیں،بادشاہوں کے بادشا ہ بننے،امیروں کے امیری پانے میں مولا علی کی ہمت کو دخل ہے،
اب تقویۃ الایمان کی سنئے،اس کی ایك عبارت شروع کفریہ ۲۲ میں سن چکے بعض اور لیجئے ص ۷:
"اﷲ صاحب نے کسی کو عالم میں تصرف کرنے کی قدرت نہیں دی[4]۔"
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع