30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
|
اصحاب کا ظاہر اصول اشارہ کرنا ہے پس عدم اشارہ ہی ہمارے متقدمین علماء کی سنت ہے۔ (ت) |
صفحہ ۴۵۰:
|
احادیث راایں اکابر بیشتر از ما،می شناختند البتہ وجہ موجہ داشتہ باشند درترك عمل بمتقضائے ایں احادیث علٰی صاحبہا الصلٰوۃ والسلام [1]۔ |
احادیث کوہماری نسبت یہ اکابر زیادہ بہتر سمجھتے ہیں،یقینا وہ ان احادیث کے مقتضا کے ترك پرکوئی موثر وجہ پیش نظر رکھتے ہیں۔(ت) |
ص ۴۵۱:
|
اگر گویند کہ علمائے حنفیہ برجواز اشارت نیز فتوٰی دادہ اند گویم ترجیح عدم جواز راست [2]اھ ملخصا۔ |
اگر یوں کہیں کہ علمائے احناف اشارہ کے جواز کا فتوٰی دیتے ہیں تو ہم جواب میں کہیں گے کہ ترجیح عدم جوازکو ہے اھ ملخصا(ت) |
اب ذرا حضرات غیر مقلدین کا نوں سے ٹینٹ،آنکھوں سے جالے ہٹاکر یہ دھوم دھامی عبارت سنیں اورا سکے تیور دیکھیں جناب شیخ سلسلہ کو صاف اقرار ہے کہ دربارہ اشارہ میں احادیث حضور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بکثرت آئی ہیں اور وہ حدیثیں معروف مشہور ہیں مگر ہمارے یہاں اصول مذہب میں اشارہ کا ذکر نہیں اور ہمارے علماء کی سنت عدم اشارہ ہے ہماری فقہ میں مکروہ ٹھہرا ہے لہذا ہمیں احادیث کے مطابق عمل کرنا جائز نہیں۔معاذاﷲ اس بھاری شرك تقلید کو کچھ کہئے کہ مذہب کے مقابل احادیث صحیحہ مشہورہ کونہیں مانتے اور سنت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے جواب میں اپنے مولویوں کی سنت پیش کرتے ہیں او رجو حنفی مذہب حنفی کے خلاف کسی حدیث پر عمل کرے اسے بے عقل ہٹ دھرم بتاتے ہیں،مزہ یہ کہ یہ مسئلہ خود مذہب حنفی میں متفق علیہا نہیں،آپ ہی اقرار فرماتے ہیں کہ مشائخ کو اختلاف ہے جواز واستحباب وسنیت اشارہ کے بھی قائل ہوئے یہاں تك کہ ائمہ کا فتوی بھی حدیثوں کے موافق موجود حتی کہ خود امام مذہب امام محمد نے تصریح فرمائی ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اشارہ فرمایا کرتے اور ہم وہی کریں گے جو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کرتے تھے،اور فرماتے ہیں یہی مذہب میرا اور امام ابو حنیفہ کا ہے مگر از انجا کہ یہ روایت نوادر کی ہے اس پر بھی نظر نہ ہوگی،نہ اختلاف مشائخ وفتوٰی پر لحاظ ہوگا۔صرف اس لئے کہ ظاہر روایۃ میں ذکر نہ آیا حرمت مرجح اور اس کے خلاف صحیح ومشہور حدیثوں پر ہمیں عمل نہیں پہنچتا،ایمان سے کہنا ایمان ترك تقلید کا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع