30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
درباب جواز اشارت بسبابہ بسیار وارد شدہ اند وبعضے از روایات فقہیہ حنفیہ دریں باب آمدہ [1]۔ |
شہادت کی انگلی سے اشارہ کی بابت بہت وادر ہیں اور فقہ حنفی کی بعض روایات بھی اس سلسلہ میں آئی ہیں۔(ت) |
صفحہ ۴۴۹:
|
وغیر ظاہر مذہب ست وآنچہ امام محمد شیبانی گفتہ کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یشیرو یصنع کما یصنع النبی علیہ وعلی الہ الصلوۃ والسلام ثم قال ھذ ا قولی و قول ابی حنیفۃرضی اﷲ تعالٰی عنہما از روایات نوادر ست نہ روایات اصول وفی المحیط اختلف المشائخ فیہ منہم من قال لایشیر ومنہم من قال یشیر وقد قیل سنۃ وقیل مستحب و الصحیح حرام،ہر گاہ درروایات معتبرحرمت اشارت واقع شدہ باشد برکراہت اشارت فتوٰی دادہ باشند مامقلدان رانمیر سدکہ بمقتضائے احادیث عمل نمودہ جرأت در اشارت نمائیم مرتکب ایں امراز حنفیہ یا علمائے مجہتدین راعلم احادیث معروفہ جواز اشارت اثبات نمی نماید یا انگارد کہ اینہا بمقتضائے ارائے خود برخلاف احادیث حکم کردہ اند ہر دوشق فاسد ست تجویز نکند آنرا مگر سفیہ یا معاند،ظاہر اصول اصحاب ما عدم اشارت ست سنت علمائے ما تقدم شدہ [2]۔ |
اور وہ ظاہر مذہب پر نہیں ہیں اورامام محمد شیبائی رحمہ اﷲ تعالٰی سے جو منقول ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اشارہ کیا کرتے تھے،اور امام محمد رحمہ اﷲ تعالٰی بھی اسی طرح کرتے جس طرح حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کیا کرتے تھے،اورپھر انھوں نے فرمایا یہی میرا اور امام ابوحنیفہ(رضی اﷲ تعالٰی عنہ)کا قول ہے،یہ نقل نادر روایات میں سے ہے کہ اس میں مشائخ کا اختلاف ہے،بعض نے فرمایا اشارہ نہ کرے،اور بعض نے فرمایا اشارہ کرے اور اس کو سنت بھی کہا ہے بعض نے مستحب کہا ہے،اور صحیح یہ ہے کہ حرام ہے،ہر گاہ کہ معتبر روایات میں اشارہ کی حرمت واقع ہوئی ہے اور اشارہ کی کراہت پر فتوٰی دیا گیا ہے ہم مقلدین حضرات کو یہ حق نہیں کہ ا حادیث کے مقتضی پر عمل کریں اور اشارہ کرنے کی جرأت کریں،اس چیز کے مرتکب کو چاہئے کہ احناف یا مجتہدین کو معروف احادیث سے اشارہ کے جواز کا اثبات کرے یا پھر واضح کرے کہ وہ اپنی رائے سے احادیث کے خلاف حکم کررہے ہیں جبکہ دونوں شقیں فاسد ہیں ان کو بیوقوف یا معاند کے بغیر کوئی بھی جائز نہیں کریگا،ہمارے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع