30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کی سندیں لیتے،اجازتیں دیتے،وظیفہ کرتے۔
الحمد للہ۔ان شاہ صاحب اور ان کی پیروں استاذوں نے تو شرك کا پانی سر سے تیر کردیا یہاں بھی مثل سابق تین۳ پہاڑ شرك کے ہیں:
۱مصیبت میں مولا علی کے پکارنے کا حکم ایك شرک،۲انھیں مصیبتوں میں مددگار ماننا دو شرک،۳یا علی یا علی یا علی کی لے باندھنا تین شرک۔جسے ان نفیس وجانفزا کلام کی تفصیل دیکھنی ہو فقیر کے رسائل انھار الانوار من یم صلٰوۃ الاسرار(۱۳۰۵ھ)وحیات الموات فی بیان سماع الاموات(۱۳۰۵ھ)و انوار الاتنباہ فی حل نداء یا رسول اللہ(۱۳۰۴ھ)والا من والعلی لناعتی المصطفی بدافع البلاء(۱۳۱۱ھ)وغیرہا مطالعہ کرے۔
کفریہ ۵۳ تا ۵۵:تمام خاندان دہلی کے آقائے نعمت وخداوند دولت ومرجع ومنتہی ومفرغ وملجاوسید ومولٰی جناب شیخ مجدد صاحب کے مکتوبات مطبوعہ لکھنؤ جلد دوم مکتوب سیم۳۰ ص ۴۶:
|
خواجہ محمد اشرف ورزش نسبت رابطہ رانوشتہ بودند کہ بحدے استیلا یافتہ است کہ درصلوات آنرا مسجود خودمی داندومی بیند واگر فرضا نفی کند منتفی نمیگردد محبت اطوار این دولت متمنائے طلاب ست از ہزاراں یکے رامگر بدہند صاحب ایں معاملہ مستعد تام المناسبۃ ست یحتمل کہ باندك صحبت شیخ مقتداجمیع کمالات اور اجذب نماید رابطہ را چرانفی کنند کہ اومسجود الیہ است نہ مسجودلہ چرا محاریب ومساجد رانفی نہ کنند ظہور ایں قسم دولت سعادتمنداں رامیسر است تادر جمیع احوال صاحب رابطہ رامتوسط خود دانند ودرجمیع اوقات متوجہ او باشند نہ دررنگ جماعہ بیدولت کہ خود رامستغنی دانند وقبلہ توجہ رااز شیخ خود منحرف ساز ند ومعاملہ خود رابرہم زنند [1]۔ |
خواجہ محمد اشرف ورزش نے رابطہ(تصور شیخ)کی نسبت لکھا ہے کہ اس کا اس حدتك غلبہ ہے کہ نمازوں میں اپنا مسجود جانتے اور دیکھتے ہیں اگر اس رابطہ کو ختم کرنے کی کوشش کریں تو بھی ختم نہیں ہوتا(تو اس پر آپ نے فرمایا)اس دولت کے حصول کی خواہش ہزاروں طالبوں کی تمنا ہے مگر کسی ایك کو عطاہوتی ہے،اس کیفیت والا شیخ سے مکمل مناسبت کے لئے مستعد ہوتاہے وہ امید کرتاہے کہ اپنے مقتداء شیخ کی صحبت کی کمی اس کے تمام کمالات کو جذب کردے گی،لوگ رابطہ(تصور شیخ)کی نفی کیوں کرتے ہیں حالانکہ وہ مسجود الیہ ہے مسجودلہ نہیں ہے یہ لوگ محرابوں اور مسجدوں کی نفی کیوں نہیں کرتے(حالانکہ وہ مسجودالیہ ہیں)اس قسم کی دولت کا ظہور سعادت مندوں کو نصیب ہوتاہے حتی کہ تمام احوال میں وہ صاحب رابطہ(شیخ)کو اپنا وسیلہ جانتے ہیں اور ہمہ وقت اس کی طرف متوجہ رہتے ہیں اس بے دولت جماعت کی طرح نہیں ہوتےجو اپنے آپ کو شیخ سے مستغنی جانتے ہیں،اور اپنی توجہ کا قبلہ شیخ سے پھیر کر خود سر ہوجاتے ہیں۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع