30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
'' بعضے از اولیاء اﷲ راکہ آلہ جارحہ تکمیل وارشاد بنی نوع خود کرد انیدہ انددریں حالت ہم تصرف دردنیا دادہ اند واستغراق آنہا بجہت کمال وسعت مدارك آنہا مانع توجہ باین سمت نمیگردد،اویسیاں تحصیل کمالات باطنی از انہامی نمایند وارباب حاجات ومطالب حل مشکلات خود از انہامی طلبند ومے یابند زبان حال آنہا درآن قوت ہم مترنم بایں مقال است ؎ من آیم بجان گر تو آئی بہ تن[1]'' |
بعض اولیاء کرام جنھوں نے اپنے آپ کو بنی نوع انسان کی رہنمائی اور تکمیل کے لئے متصرف کر رکھا ہے وہ(وفات کے بعد کی)حالت میں بھی دنیا میں تصرف کرتے ہیں اور کمال وسعت ادراك کی بناء پر ان کا استغراق اس طرف توجہ سے مانع نہیں بنتا اور اویسی خاندان باطنی کمالات کی تحصیل انہی اولیاء سے کرتے ہیں اور اہل حاجات ومشکلات انہی سے اپنی حاجات کا حل طلب کرتے ہیں اور مراد پاتے ہیں اور یہ اولیاء کرام زبان حال سے اس وقت یہ فرماتے ہیں: اگر تو جسمانی طور پر آیا ہے تو میں جان سے حاضر ہوں۔ (ت) |
یہ عبارت سراپا بشارت اس شخص کے مذہب ہمہ تن شرارت پر معاذاﷲ سرتاپا شرك جلی سے ملوث ہے،اولیائے کرام دنیا میں تصرف،بعد انتقال بھی ان کا تعلق باقی رہنا،ان کے علوم کی وسعت کہ ادھر بھی مستغرق ہیں ادھر بھی خبر رکھیں،اولیا ء کا بعد وصال بھی فیض دینا،مریدوں کو مناصب عالیہ تك پہنچانا،حاجتمندوں کا اپنی حاجتیں ان کی پاك روحوں سے طلب کرنا ان کا حل مشکل فرمانا،نواب بہادر کی عبارت میں تو تین ہی شرك تھے حضرت شاہ صاحب کے کلام میں المضاعف ہیں،ہاں ہونا ہی چاہیے کہ وہ نواب تھے یہ شاہ ہیں کلام الملك ملك الکلام۔
کفریہ ۴۷ تا ۴۹:تحفہ اثناء عشریہ حضرت ممدوح ص ۳۹۶ و ۳۹۷:
|
حضرت امیر و ذریہ طاہرہ اور ا تمام امت بر مثال مریدان ومرشدان می پرستند وامور تکوینہ رابایشاں وابستہ میدانند وفاتحہ ودرود وصدقات و نذربنام ایشاں رائج ومعمول گردیدہ چنانچہ باجمیع اولیاء اﷲ ہمیں معاملہ است [2]۔ |
تمام امت مریدوں کی طرح حضرت امیر(علی مرتضی رضی اﷲ تعالٰی عنہ اور ان کی اولاد پاك کو مرشد تسلیم کرتی ہے اور تکوینی امور کو ان سے وابستہ مانتی ہے،اور فاتحہ،درود اور صدقات ونذر ونیاز ان کے نام رائج اور معمول ہے جس طرح کہ تمام اولیاء اﷲ کے ساتھ یہ معاملہ رائج ہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع