30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
مکۃ [1]۔ |
نے مکہ کو حرم بنایا۔ |
صحیح بخاری ج ۱ ص ۲۵۱،صحیح مسلم ج ۱ص ۴۴۱:واللفظ لہ عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ(حدیث کے یہ لفظ صحیح مسلم کے ہیں۔ت)
حدیث:حضور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
ان ابراھیم حرم مکۃ وانی حرمت المدینۃ مابین لابتیھا لایقطع عظاھہا ولایصاد صیدھا [2]۔ |
بیشك ابراہیم نے مکہ کو حرم بنایا اور میں نے مدینہ کو حرم کیا،نہ کاٹی جائیں ا س کی ببولیں اور نہ پکڑا جائے اس کا شکار۔ |
صحیح مسلم ج ۱ ص ۴۴۰ عن جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔
اس مطلب کی حدیثیں صحاح وسنن ومسانید وغیرہا میں بکثرت ہیں جن میں حضورسید العالمین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے صاف وصریح حکم فرمایا کہ مدینہ طیبہ اور اس کے گرد وپیش کے جنگل کا وہی ادب کیا جائے جو مکہ معظمہ اوراس کے جنگل کا ہے۔یہی مذہب ائمہ مالکیہ وشافعیہ وحنبلیہ اور بکثرت ائمہ صحابہ و تابعین رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین کاہے،ائمہ حنفیہ اگرچہ اس باب میں اور احادیث پر عمل فرماتے ہیں جو شرح معانی الآثار امام طحاوی وغیرہ میں مع نظر مذکور مگر ترجیح یا تطبیق یا نسخ دوسری چیز ہے،کلام اس میں ہے کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے تو صراحۃً مدینہ طیبہ کے جنگل کا ادب ارشاد فرمایا،اب اس شخص کی سنئے تقویۃ الایمان ص ۱۱:"گردو پیش کے جنگل کا ادب کرنا یعنی وہاں شکار نہ کرنا،درخت نہ کاٹنا یہ کام اﷲ نے اپنی عبادت کے لئے بتائے ہیں پھر جو کوئی کسی پیغمبر یا بھوت کے مکانوں کے گرد پیش کے جنگل کا ادب کرے اس پر شرك ثابت ہے پھر خواہ یوں سمجھے کہ یہ آپ ہی اس تعظیم کے لائق ہیں یا یوں کہ ان کی اس تعظیم سے اﷲ خوش ہوتاہے ہر طرح شرك [3]اھ ملخصًا۔
جان برادر! تونے دیکھا کہ اس شخص کی ساری کوشش اسی میں تھی کہ اﷲ اوررسول کو بھی مشرك کہنے سے نہ چھوڑے،تف ہزار تف بروئے بے دیناں۔
کفریہ ۴۱ تا ۴۶:تفسیر عزیزی پارہ عم شاہ عبدالعزیز صاحب مطبوعہ بمبئی ص ۱۴۰:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع