30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یہ شخص غیر مقلدی اور دین الٰہی میں ہرگونہ آزادی کا پھاٹك کھولنے کےلئے کہتاہے کہ یہ بالکل غلط ہے قرآن سمجھنے کو علم ہر گزدرکار نہیں۔
تقویۃ الایمان ص ۳:"عوام الناس میں مشہور ہے کہ اﷲ ورسول کا کلام سمجھنا بہت مشکل ہے اس کو بڑا علم چاہئے سویہ بات بہت غلط ہے [1]اھ ملخصا۔
لطف یہ کہ اپنے اس گھڑے مطلب پر دلیل لایا آیہ کریمہ:
" ہُوَ الَّذِیۡ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوۡلًا مِّنْہُمْ یَتْلُوۡا عَلَیۡہِمْ اٰیٰتِہٖ وَ یُزَکِّیۡہِمْ وَ یُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَ الْحِکْمَۃَ ٭"[2]۔سے،اورخودہی ا س کا ترجمہ کیا کہ:"وہ اﷲ ایساہے کہ جس نے کھڑا کیا نادانوں میں ایك رسول ان میں سے کہ پڑھتاہے ان پر آیتیں اس کی اور پاك کرتاہے ان کو اور سکھاتاہے ان کو کتاب اور عقل کی باتیں۔"[3]کیوں حضرت! جب قرآن کے سمجھنے کو علم درکارنہیں ہر جاہل نادان سمجھ سکتاہے تو نبی کے سکھانے کی کیا حاجت تھی،سبحان اللہ! ردوا سدوا تو خود سمجھ لیں اور صحابہ کرام سکھانے کے محتاج۔
کفریہ ۳۱ و ۳۲:تقویۃ الایمان ص ۱۰:"روزی کی کشائش اور تنگی کرنی اور تندرست اور بیمار کردینا اقبال وادبار دینا،حاجتیں برلانی،بلائیں ٹالنی،مشکل میں دستگیری کرنی یہ سب اﷲ ہی کی شان ہے اور کسی انبیاء اولیاء بھوت پر ی کی یہ شان نہیں جو کسی کو ایسا تصرف ثابت کرے اور اس سے مراد یں مانگے اور مصیبت کے وقت اس کو پکارے سو وہ مشرك ہوجاتاہے پھر خواہ یوں سمجھے کہ ان کاموں کی طاقت ان کو خود بخود ہے خواہ یوں سمجھے کہ اﷲ تعالٰی نے ان کو قدرت بخشی ہے ہر طرح شرك ہے[4]اھ ملخصًا۔
کاش یہ ظالم صرف اس قدر کہتاکہ جو کسی کو قادر بالذات ومتصرف بالاستقلال سمجھے مشرك ہے تو بیشك حق تھا مگر یوں مطلب کیا نکلتاکہ یہ معنی تو کسی کی نسبت کسی مسلمان کے خیال میں ہر گز نہیں تو تمام مسلمانوں کو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع