30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ان اﷲ حرم علی الارض ان تاکل اجساد الانبیاء [1]۔رواہ ابوداؤد۔ |
کمال الدین دمیری نے فرمایا علماء نے اس قول پر اس وجہ سے تکفیرکی کہ اس میں ارشاد حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی تکذیب ہے کہ بیشك اﷲ عزوجل نے زمین پر انبیاء کا جسم کھانا حرام کیا ہے۔(اسے ابوداؤد نے روایت کیا۔ت) |
فائدہ:یہ روضہ اقدس کا طواف کرنے والے تابعین یا اقل درجہ تبع تابعین تو ضرور تھے۔
کفریہ ۲۶:تقویۃ الایمان کی ابتداء میں شرك کی کچھ قسمیں اور ان کا اجمالی بیان گھڑا کہ یہ باتیں فلاں قسم سے شرك ہیں اس بیان کے بعد اسی اجمال کی تفصیل کی پانچ فصلیں مقرر کیں ان فصلوں میں جو کچھ ہے وہ اسی اجمالی بیان کی شرح ہے ص ۱۰پر اسی بیان اجمالی میں لکھا:
"حاجتیں برلانی اﷲ ہی کی شان ہے کسی انبیاء واولیاء کی یہ شان نہیں جو کسی کو مصیبت کے وقت پکارے وہ مشرك ہوجاتاہے[2]۔"
اسی میں لکھا ص ۱۲:"جوکوئی انبیاء واولیاء کی اس قسم کی تعظیم کرے مشکل کے وقت ان کو پکارے ان باتوں سے شرك ثابت ہوتاہے ان چاروں طرح کے شرك کا صریح قرآن وحدیث میں ذکرہے اس لئے اس باب میں پانچ فصلیں کیں [3]اھ ملخصًا۔
غرض یہ اجمالی بیان ایك دعوی ہے اور آگے ساری کتاب اس دعوے کا بیان وثبوت،اب یہ دعوی تو یادرکھئے کہ"جوکوئی انبیاء اولیاء کو پکارے وہ مشرك ہے"آگے ثبوت کی فصلوں میں اس کابیان سنئے صفحہ ۲۹:
"اﷲ سے زبردست کے ہوتے ایسے عاجز لوگوں کو پکارنا کہ کچھ فائدہ اور نقصان نہیں پہنچاسکتے محض بے انصافی ہے کہ ایسے شخص کا مرتبہ ایسے ناکارہ لوگوں کو ثابت کیجئے۔"[4]
یہ حضرات اولیاء وانبیاء علیہم افضل الصلٰوۃ والثناء کو"ناکارے لوگ"کہا،کیا یہ ان کی جناب میں کھلی گستاخی نہیں،کیا انبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام کی شان میں گستاخی کفر خالص نہیں جس کی تفصیل شفاء شریف اور اسی کی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع