30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تو اقوال مذکور کے صاف یہ معنی عــــــہ ہوئے کہ اﷲ تعالٰی کے سوا انبیاء ملائکہ کسی پر ایمان نہ لائے سب کے ساتھ کفر کرے اس سے بڑھ کر کفر کیاہوگا۔
لطف یہ ہے کہ اسی تقویۃالایمان کے دوسرے حصے تذکیر الاخوان مترجمہ سلطان خاں مطبع فاروقی ص ۷۳ میں ہے:"اصحاب رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے محبت رکھنا ایمان کی نشانی ہے جو ان کو نہ مانے اس کا ٹھکانا دوزخ ہے۔"[1]
سبحن اللہ! دوسرے حصے والا کہتاہے جو صحابہ کو نہ مانے وہ بدعتی ہے جہنمی،پہلے والاکہتاہے صحابہ تو صحابہ جو انبیاء کو مانے وہ مشرك دوزخی،کفی اﷲ المومنین القتال(مومنوں کو اﷲ کافی ہے لڑائی میں۔ت)
کفریہ ۲۴:صراط مستقیم ص ۳۸:
|
صدیقی من وجہ مقلد انبیاء می باشد ومن وجہ محقق در شرائع پس اگر صدیق زکی القلب ست رضا وکراہیت حضرت حق درافعال و |
صدیق من وجہ انبیاء کا مقلد ہوتاہے اور من وجہ احکام شریعت میں محقق ہوتاہے۔اگر صدیق زکی القلب ہو تو اﷲ تعالٰی کی رضا اور عدم رضا کو افعال و |
عــــــہ: اگر اس کے کلام کے کچھ نئے معنی اپنے جی سے گھڑئیے بھی تو اولا تو صریح لفظ میں تاویل کیا معنی،
شفا شریف صفحہ ۳۲۲:
والتاویل فی لفظ صراح لایقبل [2]۔ صریح لفظ میں تاویل کا دعوی مقبول نہیں۔
ثانیا: وہ آپ سب تاویلوں کا دروازہ بند کرچکا تو اس کے کلام میں بناوٹ نہ رہی گھڑت ہے جو اسے خود قبول نہیں،
تقویۃ الایمان ص ۵۸:"یہ بات محض بے جا ہے کہ ظاہر میں لفظ بے ادبی کا بولئے اور اس سے کچھ اور معنی مرادی لیجئے معما اور پہیلی بولنے کی اور جگہ ہیں کوئی شخص اپنے باپ یا بادشاہ سے جگت نہیں بولتا اس کے واسطے دوست آشنا ہیں نہ کہ باپ اور بادشاہ۔"[3]
یہ نفیس فائدہ ہر جگہ ملحوظ خاطر رہے کہ اکثر حرکات مذبوجی کا جواب شافی ہے ۱۲سل السیوف
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع