30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اﷲ تعالٰی والعروج الیہ ومکالمتہ [1]ا ھ ملخصا۔ |
اس تك صعود اس سے باتیں کرنے کا مدعی ہو۔ |
ص ۳۶۲:
|
وکذلك من ادعی منھم انہ یوحی الیہ وان لم یدع النبوۃ اوانہ یصعد الی السماء ویدخل الجنۃ ویاکل من ثمارھا ویعانق الحور العین فھؤلاء کلھم کفار مکذبون للنبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم [2]۔ |
اسی طرح جھوٹا متصوف دعوٰی کرے کہ اﷲ تعالٰی اسے وحی کرتاہے اگرچہ نبوت کا مدعی نہ ہو،یا یہ کہ وہ آسمان تك چڑھتاہے جنت میں جاتا اس کے پھل کھاتا حوروں کو گلے لگاتاہے یہ سب کافر ہیں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی تکذیب کرنے والے۔ |
حوروں سے اس معانقہ کے دعوے پر تو یہ حکم ہے خود رب العزت سے ہاتھ ملاکر مصافحہ پر کیا حکم ہوگا۔تحفہ اثناعشریہ ص ۲۹۹:
|
درحین بعثت بلکہ درحین مناجات ومکالمہ کہ اعلائے مراتب قرب بشری باجناب خداوندی ست [3]۔ |
نبی کی بعثت کے وقت بلکہ مکالمہ اورمناجات کے وقت جو کہ اﷲ تعالٰی کے ہاں بشری قرب کا اعلٰی مرتبہ ہے۔(ت) |
اس ترقی سے صاف ظاہر کہ مکالمہ کا مرتبہ نفس نبوت سے خاص تر ہے تو دنیا میں کسی کے لئے اﷲ عزوجل سے کلام حقیقی کا دعوی صراحۃً اس کی نبوت کا دعوٰی ہے،تفسیر عزیزی سورہ بقرہ مطبع کلکتہ ۱۲۴۹ھ ص ۴۲۳ زیر قولہ تعالٰی
"وَقَالَ الَّذِیۡنَ لَایَعْلَمُوۡنَ لَوْلَا یُکَلِّمُنَا اللہُ":
|
منشائے ایں گفتگوے ایشاں جہل ست زیر اکہ نمی فہمند کہ رتبہ ہمکلامی باخدائے عزوجل بس بلندست ہنوز بہ پائہ اولین آں کہ ایمان ست نرسیدہ اند وآن رتبہ مختص ست بملائکہ وانبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام وغیرہ ایشاں راہرگز میسر نمی شود پس فرمائش ہمکلامی باخدا گویا فرمائش آنست کہ تاہمہ راپیغمبراں |
ان کی اس گفتگو کا منشاء جہالت ہے کیونکہ وہ یہ نہ سمجھے کہ اﷲ تعالٰی کے ساتھ ہم کلامی کا رتبہ بہت بلند ہے یہ لوگ ابھی ایمان کی ابتداء کو نہیں پہنچے حالانکہ وہ رتبہ ہمکلامی فرشتوں اور انبیاء کو ہی حاصل ہے کسی دوسرے کوہر گز میسر نہیں ہے، تو اﷲ تعالٰی سے ہمکلامی کی فرمائش کرنا گویا یہ فرمائش ہے کہ وہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع