30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تعالٰی علیہ وسلم کو خاتم النبیین فرمایا اگر حضور کا مثل بمعنی مذکورر ممکن ہو تومعاذاﷲ کذب الٰہی لازم آئے،اس کے جواب میں شخص مذکور نے وہ کفری بول بولا کہ اگر اﷲ تعالٰی قرآن مجید دلوں سے بھلا کر ایسا کرے تو کس نص کی تکذیب ہوگی،یہاں صاف اقرار کردیا کہ اﷲ عزوجل کی بات واقع میں جھوٹی ہو جانے میں تو حرج نہیں حرج اس میں ہے کہ بندے اس کے جھوٹ پر مطلع ہوں اگر انھیں بھلا کر اپنی بات جھوٹی کردے تو تکذیب کہاں سے آئیگی کہ اب کسی کو وہ نص یاد ہی نہیں جو جھوٹ ہوجانا بتائے غرض سارا ڈر بندوں کا ہے جب ان کی مت ماردی پھر پرواکیا تعالی اﷲ عما یقول الظلمون علوا کبیرا۔ظالموں کی باتوں سے اﷲ تعالٰی بہت بلند ہے۔ت)شفاء شریف ص ۳۶۱:
|
من دان بالو حدانیۃ وصحۃ النبوۃ و نبوۃ نبینا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ولکن جوز علی الانبیاء الکذب فیما اتوابہ ادعی فی ذٰلك المصلحۃ بزعمہ اولم یدعھا فھوکافر باجماع [1]۔ |
جو اﷲ تعالٰی کی وحدانیت نبوت کی حقانیت ہمارے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی نبوت کا اعتقاد رکھتاہو بااینہمہ انبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام پر ان باتوں میں کہ وہ اپنے رب کے پاس سے لائے کذب جائز مانے خواہ بزعم خود اس میں کسی مصلحت کا ادعا کرے یا نہ کرے ہر طرح بالاتفاق کافرہے۔ |
حضرات انبیاء علیہم افضل الصلٰوۃ والثناء کا کذب جائز ماننے والا بالاتفاق کافر ہوا اﷲ عزوجل کا کذب جائز ماننے والا کیونکر بالاجماع کا فر مرتد نہ ہوگا،اس مسئلے میں شخص مذکور اوراس کا کاسہ لیسوں کے اقوال سخت ہولناك وبیباك وناپاك ہیں جن کی تفصیل وتشریح اور ان کے رد بلیغ کی تنقیح ہماری کتاب سبحن السبوح عن عیب کذب مقبوح(۱۳۰۷ھ)سے روشن۔
کفریہ ۷:یکروزی ص ۱۴۵:
|
لانسلم کہ کذب مذکور محال بمعنی مسطور باشد چہ مقدمہ قضیہ غیر مطابقہ للواقع والقائے آں برملٰئك و انبیاء خارج از قدرت الہیہ نیست والالازم آید کہ قدرت انسانی ازید ازقدرت ربانی باشد [2]۔ |
اﷲ تعالٰی کے لئے مذکور کذب کوہم محال نہیں مانتے کیونکہ واقع کے خلاف کوئی قضیہ وخبر بنانا اور اس کو فرشتوں اور انبیاء پر القاء کرنا اﷲ تعالٰی کی قدرت سے خارج نہیں ورنہ لازم آئیگا کہ انسانی قدرت اﷲ تعالٰی کی قدرت سے زاید ہو جائے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع