30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ترجمہ کیا کہ:
''پھر بھیجے گا اﷲ ایك باؤ اچھی،سوجان نکال لے گی جن کے دل میں ہوگا ایك رائی کے دانہ بھر ایمان،سو رہ جائیں گے وہی لوگ جن میں کچھ بھلائی نہیں۔سوپھر جائیں گے اپنے باپ دادوں کے دین پر۔''[1]
حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے یہ بھی صراحۃً ارشاد فرمایا تھا کہ ''وہ ہوا خروج دجال لعین ونزول عیسی مسیح علیہ الصلٰوۃ والسلام کے بعد آئے گی[2]۔
تقویۃ الایمان میں حدیث کے یہ الفاظ بھی خود ہی نقل کئے اور اس کا ترجمہ کیا ص ۴۵:''نکلے گا دجال سو بھیجے گا اﷲ عیسٰی بیٹے مریم کو،سووہ ڈھونڈے گا اس کو،پھر تباہ کردے گا اس کو،پھر بھیجے گا اﷲ ایك باؤ ٹھنڈی شام کی طرف سے،سونہ باقی رہے گا زمین پر کوئی کہ اس کے دل میں ذرہ بھر ایمان ہو مگر مار ڈالے گی اس کو۔''[3]
باینہمہ حدیث مذکور لکھ کر اسی صفحہ پر صاف لکھ دیا:''سو پیغمبر خدا کے فرمانے کے موافق ہوا۔''[4]
اب نہ خروج دجال کی حاجت رہی نہ نزول عیسٰی کی ضرورت بلکہ ان کے نصیبوں کے لئے وہ ہوا بھی چل گئی،تمام مسلمانوں کے کافر مشرك بنانے کے لئے ختم دنیا کی حدیث صاف صاف اپنے زمانہ موجودہ پر جمادی،اور کچھ پروا نہ کی کہ جب یہ وہی زمانہ ہے جس کی اس حدیث نے خبر دی اور وہ ہوا چل چکی اور جس کے دل میں رائی برابربھی ایمان تھا مرگیا اب تمام دنیا میں نرے کافر ہی کافر رہ گئے ہیں تو یہ شخص خود اور اس کے سارے پیر وکیا دنیا کے پردے سے کہیں الگ بستے ہیں،یہ خود اپنے اقرار سے ٹھیٹ کافر پکے بت پرست ہیں،یہ خود ان کا اقراری کفر تھا،اب گنئے کہ علمائے کرام فقہائے عظام کی صریح تصریحوں سے ان پر کتنی وجہ سے کفر لازم:
کفریہ ۱:یہی اقرار کفرکہ جو اپنے کفر کا اقرار کرے وہ سچ کافرہے،نوازل فقیہ ابواللیث،پھر خلاصہ،پھر تکملہ لسان الحکام مطبوعہ مصر ص ۵۷:رجل قال انا ملحد یکفر [5]جو اپنے الحاد کا اقرار کرے وہ کافرہے۔
[1] تقویۃالایمان الفصل الرابع فی ذکر ردالاشراك فی العبادۃ مطبع علیمی لوہاری گیٹ لاہور ص۳۰
[2] مشکوٰۃ المصابیح باب لاتقوم الساعۃ الاعلی شرار الناس مطبع مجتبائی دہلی نصف ثانی ص۴۸۱
[3] تقویۃ الایمان الفصل الرابع فی ذکر ردالاشراك فی العبادۃ مطبع علیمی لوہاری گیٹ لاہور ص۳۱
[4] تقویۃ الایمان الفصل الرابع فی ذکر ردالاشراك فی العبادۃ مطبع علیمی لوہاری گیٹ لاہور ص۳۰
[5] خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الفاظ الکفر فصل ثانی جنس خامس مکتبۃ حبیبیہ کوئٹہ ۴/ ۳۸۷
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع