30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
ان کی نسبت کلمات ناشائستہ لانا بہر حال حرام ہے،ایك قول ان کی نبوت کا ہے کما فی شرح الھمزیۃ للامام ابن حجر المکی رحمہ اﷲ تعالٰی(جیساکہ امام ابن حجر مکی کی شرح ہمزیہ میں ہے۔ت)اور ظاہر قرآن عظیم سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے:
|
قال تعالٰی" اٰمَنَّا بِاللہِ وَمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡنَا وَمَاۤ اُنۡزِلَ اِلٰۤی اِبْرٰہٖمَ وَ اِسْمٰعِیۡلَ وَ اِسْحٰقَ وَیَعْقُوۡبَ وَالۡاَسْبَاطِ وَمَاۤ اُوۡتِیَ مُوۡسٰی وَعِیۡسٰی وَمَاۤ اُوۡتِیَ النَّبِیُّوۡنَ مِنۡ رَّبِّہِمْۚ لَا نُفَرِّقُ بَیۡنَ اَحَدٍ مِّنْہُمْ۫ وَنَحْنُ لَہٗ مُسْلِمُوۡنَ﴿۱۳۶﴾"[1]۔ |
الله تعالٰی کا ارشاد گرامی ہے:یوں کہو کہ ہم ایمان لائے الله پر جو ہماری طرف اترا اور جو اتاراگیا ابراہیم واسمعیل واسحق ویعقوب اور ان کی اولاد پر،اور جو عطا کئے گئے موسٰی وعیسٰی اورجو عطا کئے گئے باقی انبیاء اپنے رب کے پاس ہم ان میں کسی پر ایمان میں فرق نہیں کرتے اور ہم الله کے حضور گردن رکھے ہیں۔(ت) |
اسباط یہی ابنائے یعقوب علیہ الصلٰوۃ والسلام ہیں۔اس تقدیر پر تو ان کی توہین کفر ہوگی ورنہ اس قدر میں شك نہیں کہ وہ اولیائے کرام سے ہیں اور جو کچھ ان سے واقع ہو ا اپنے باپ نبی الله کے ساتھ محبت شدیدہ کی غیرت سے تھا پھر وہ بھی رب العزت نے معاف کردیا۔اور یوسف علیہ الصلٰوۃ والسلام نے خود عفو فرمایا:
|
"قَالَ لَا تَثْرِیۡبَ عَلَیۡکُمُ الْیَوْمَ ؕ یَغْفِرُ اللہُ لَکُمْ ۫ وَہُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیۡنَ ﴿۹۲﴾"[2]۔ |
کہا آج تم پرکچھ ملامت نہیں الله تمھیں معاف کرے اور وہ سب مہربانوں سے بڑھ کر مہربان ہے۔(ت) |
اور یعقوب علیہ الصلٰوۃ والسلام نے فرمایا:
|
"سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَکُمْ رَبِّیۡ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ الْغَفُوۡرُ الرَّحِیۡمُ ﴿۹۸﴾ "[3] |
جلد میں تمھاری بخشش اپنے رب سے چاہوں گا بیشك وہی بخشنے والا مہربان ہے۔(ت) |
بہر حال ان کی توہین سخت حرام ہے اور باعث غضب ذوالجلال والاکرام ہے،رب عزوجل نے کوئی کلمہ ان کی مذمت کا نہ فرمایا دوسرے کو کیا حق ہے،مناسب ہے کہ توہین کرنے والا تجدید اسلام وتجدید نکاح
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع