30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
زید کی زبان سے جولفظ نکلا بلا شبہ کلمہ کفرہے اوراس پر تجدید اسلام لازم،اور مفتی کا حکم صحیح ہے المفتی انما یفتی بالظاھر واﷲ یعلم السرائر(فتوٰی دینے والا ظاہر کا پابند ہوتاہے دلوں کے رازوں سے تو الله تعالٰی ہی آگاہ ہے۔ت)واقع میں اگر ا س کی زبان بہکی تو عند الله کفر نہ ہوا،مگر مفتی بلادلیل ا س دعوٰی کو قبول نہ کرے گا۔شفا شریف میں ہے:
|
لا یعذر بدعوی زلل اللسان [1]،واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
زبان کے بہکنے کا دعوٰی عذرنہیں قرار دیا جاتا۔والله تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۲۵ تا ۲۶: از ریاست فرید کوٹ مسئولہ علیم الدین فراش کوٹھی بلیسر گنج ۷ رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ:
(۱)حنفی نماز مدلل ص۷ اور حواشی اور فتاوی بدیع الدین میں لکھاہے کہ اگر کوئی شخص کسی عالم باعمل سے بدزبانی اور فحش کلامی کرے تو کافر ہوجاتاہے اور اس کی عورت نزدیك امام محمد کے مطلقہ بطلاق بائن ہوجاتی ہے،تو ایسے شخص کو پھر اپنی عورت سے کس طرح نکاح کرنا چاہئے؟
(۲)حدیث میں ہے کہ"بڑھاؤ داڑھی کو اور کترواؤ مونچھوں کو"روایت کیا اس کو بخاری نے،حضور نے صیغہ امر سے دونوں حکم فرمائے اور امر حقیقۃً وجوب کے لئے ہوتاہے،پس معلوم ہوا کہ یہ دونوں حکم واجب ہیں،اور واجب کا ترك کرنا حرام،پس داڑھی کٹانا اور مونچھیں بڑھانا دونوں حرام فعل ہیں،اس سے زیادہ دوسری حدیث میں ہے کہ ارشاد فرمایا رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے:"جوشخص لبیں نہ لے وہ ہم سے نہیں"روایت کیا اس کو احمد وترمذی ونسائی نے۔جب اس کا گناہ ہونا ثابت ہوگیا تو جو لوگ اس پر اصرا کرتے ہیں اور اس کو پسند کرتے ہیں اور داڑھی بڑھانے کو عیب مانتے ہیں بلکہ داڑھی والوں پر ہنستے ہیں اور اس کی ہجو کرتے ہیں،ان سب مجموع امور سے ایمان کا سالم رہنا دشوار ہے،ان لوگوں کو واجب ہے کہ اپنی اس حرکت سے توبہ کریں اور ایمان ونکاح کی تجدید کریں اور اپنی صورت موافق حکم الله ورسول بنائیں،ایك کتاب میں یہ مضمون دیکھا گیا کہ یہ واقعی درست ہے کہ ایسے شخص کو دوبارہ تجدید نکاح کا حکم دیا جائے۔بینوا تو جروا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع