30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ہُمُ الْبَاقِیۡنَ ﴿۫ۖ۷۷﴾ "[1] |
کی اولاد باقی رکھی۔ |
فتح الباری کتاب الفتن میں ہے:
|
الاول المعتمد والا فاین کانوا حین الطوفان [2]۔اقول وقد اجبنا عن ھذا بجوابین فی کتابنا الفیوضات الملکیۃ احدھما مایدرینا لعل اﷲ خمرھا مددا متطا ولۃ حتی خلقھم منہا بعد الطوفان [3]۔ |
یاجوج وماجوج کا ذریت نوح علیہ الصلٰوۃ والسلام ہی سے ہونا معتمد ہے ورنہ طوفان کے وقت وہ کہاں رہے۔ ہم نے اپنی کتاب"الفیوضات الملکیۃ"میں اس کے دو جواب دئے ایك یہ ہے ہمیں کیا علم شاید الله تعالٰی نےاس نطفہ کو طویل مدت تك محفوظ رکھا ہو اور پھر ا س سے ان کی تخلیق طوفان کے بعد فرمائی ہو(ت) |
ارشاد الساری شرح صحیح بخاری دونوں محل میں ہے:
|
وھذالفظہ فی بدء الخلق قال ابن کثیر وھذا القول غریب جد اثم لادلیل علیہ لامن عقل ولامن نقل،ولایجوز الاعتماد ھٰھنا علی مایحکیہ بعض اھل الکتاب لماعندھم من الاحادیث المفتعلۃ [4]۔ اماما عزاہ الامام النووی فی فتاواہ لجماھیر العلماء انھم من ماء آدم لا من حواء،فاقول لا یثبت الاحتلام، فاولا قد تحصل النطفۃ بنحو التبطین |
کتاب بدء الخلق میں ہے ان کے الفاظ یہ ہیں امام عماد نے فرمایا یہ قول سخت غریب ہے،پھر اس پر نہ عقل سے دلیل نہ نقل سے،اور یہاں بعض اہل کتاب کی حکایت پر اعتماد حلال نہیں کہ ان کے پاس بہتیری باتیں گھڑی ہوئی ہیں۔امام نووی نے فتاوٰی میں جماہیر علماء کی طرف منسوب کیا کہ یہ نطفہ حضرت آدم کا تھا نہ کہ حضرت حواءکا،تو میں کہتاہوں ا س سے احتلام کہاں ثابت ہوتاہے اولًا کبھی کبھی نطفہ حالت حیض میں شرمگاہ سے باہر |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع