30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور اگر یوں ہوتا کہ خدا ناترسو! الله ورسول سے اتنا ڈرو جتنا دنیوی حاکم اور اس کے سمن اور چپراسی سے ڈرتے ہو جب بھی اسے تمثیل وتشبیہ وتوہین سے علاقہ نہیں تو اب اس کی نظیر یہ حدیث ہوتی کہ ابن عدی نے ابوامامہ باہلی رضی الله تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
|
استحیی اﷲ استحیائك من رجلین من صالحی عشیرتك [1]۔ |
الله تعالٰی سے ایسی شرم کر جیسی اپنے کنبے کے دونیك مردوں سے کرتاہے۔ |
یہاں معاذاللہ،الله تعالٰی کو کنبے کے دو مردوں سے تشبیہ نہیں،نہ یہ کہ الله تعالٰی سے اتنی ہی حیا چاہئے جتنی دو مردوں سے بلکہ اس مقدار حیا کی طرف ہدایت ہے کہ الله سے کرے تو معاصی سے روکنے کو کافی ہو،یو ہیں نہ یہاں معاذالله دنیوی حاکم اور سمن اور چپراسی سے تشبیہ ہے نہ یہ کہ الله ورسول وقرآن سے اتناہی ڈرو جتنا ان سے بلکہ اس مقدار خوف کی طر ف ہدایت ہے کہ الله ورسول وقرآن سے ہو تو اتقاواجتناب معاصی کے لئے بس ہو،ہمارے ائمہ مذہب رضی الله تعالٰی عنہم کے نزدیك ساب مرتد ہے اور اس کے سب احکام مثل مرتد،مرتداگر توبہ کرے تقبل ولا یقتل(قبول کریں گے اور قتل نہ کریں گے)کما حققناہ بتوفیق اﷲ تعالٰی فی فتاوٰنا(جیسا کہ ہم نے الله تعالٰی کی توفیق سے اپنے فتاوٰی میں اس کی تحقیق کی ہے۔ت) تشبیہ میں اگر وجہ شبہ امور متعددہ سے منتزع ہو تمثیل ہے جیسے کریمہ"کَمَثَلِ الْحِمَارِ یَحْمِلُ اَسْفَارًا "[2](گدھے کی مثال ہے جو پیٹھ پر کتابیں اٹھائے۔ت)ورنہ نہیں،اور کبھی تشبیہ مرکب کو تمثیل کہتے ہیں جس کے معنی میں مفرد کی مفرد سے تشبیہ ملحوظ نہیں بلکہ ہیأت مجموعی سے کریمہ"وَ ہِیَ تَجْرِیۡ بِہِمْ فِیۡ مَوْجٍ کَالْجِبَالِ ۟"[3](اور وہی انھیں لئے جارہی ہے ایسی موجوں میں جیسے پہاڑ۔ت)میں تشبیہ ہے۔اور کریمہ" مَثَلُہُمۡ کَمَثَلِ الَّذِی اسْتَوْقَدَ نَارًا ۚ"[4]۔الایۃ(ان کی کہاوت اس کی طرح ہے جس نے آگ روشن کی،الایۃ۔ ت) میں تمثیل ہے۔والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۹: ۲ ۱جمادی الآخرہ ۱۳۳۹ھ
وقایہ اہل السنہ میں موذن کو مثل چپراسی دربار حاکم کے کہا ہے،اور ترمذی میں ہے کہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع