30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ۱۷: از شہر محلہ سوداگران مسئولہ سید عزیز احمد صاحب ۷ربیع الاول ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین وحامی شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك مکان درحقیقت دو سو روپیہ کو بیع کیا مگر بیعنامہ ڈھائی سو روپیہ کالکھا اور رجسٹری کے وقت حاکم کے سامنے دو سو روپیہ وصول پائے،باقی پچاس روپیہ اس سے قبل وصول پانے کا جھوٹا اقبال کیا اور اس بارے میں عمرو کی شہادت پیش کی،عمرو نے باوجود اس کے کہ اس کو اس امرکا اچھی طرح علم تھاکہ مکان حقیقت میں دوسو روپیہ کو بیع کیا گیا ہے اور کوئی رقم پچاس روپے کی اس سے قبل زید کو وصول نہیں ہوئی ہے اس امر کی شہادت دی کہ مکان واقعی ڈھائی سو روپے کو بیع کیا گیا ہے اور پچاس روپے زید کو اس سے قبل وصول ہوچکے ہیں،جب لوگوں نے عمرو سے کہا کہ تم نے جھوٹی شہادت دی،عمرونے اس کا جواب دیا کہ کچہری میں کون سا سچ کہا کرتاہے جتنے جاتے ہیں سب جھوٹ ہی کہا کرتے ہیں اگر میں نے جھوٹ کہا تو کیا برا کیا،اب سوال یہ ہے کہ عمرو اکثر اوقات نماز میں امامت بھی کرتاہے تو ایسی حالت میں عمرو کی امامت نماز میں جائز ہے یا ناجائز؟
الجواب:
صورت مستفسرہ میں اس کی امامت ناجائز ہے،ایك تو اس نے جھوٹی گواہی دی اور حدیث میں فرمایا:
"سن لو سن لو جھوٹی گواہی بتوں کے پوجنے کے برابر رکھی گئی،سن لو سن لو جھوٹی گواہی بتوں کے پوجنے کے برابر رکھی گئی،سن لو سن لو جھوٹی گواہی بتوں کے پوجنے کے برابر رکھی گئی[1]۔"دوسری حدیث میں فرمایا:
|
لن تزول قد ماشاھدالزور حتی یوجب اﷲ لہ النار [2]۔ |
جھوٹی گواہی دینے والا وہا ں سے قدم ہٹانے نہیں پاتا کہ الله تعالٰی اس کے لئے نار جہنم واجب فرماتاہے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع