30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تبدیلی پر بشارت ہے کہ اپنے کرتب چھوڑوگے تو ہم تمھاری اس ردی حالت کو بدل دیں گے،ذلت کے بدلے عزت دینگے،اے رب ہمارے! ہماری انکھیں کھول اور اپنے پسندیدہ راستہ پر چلا صدقہ رسولوں کے سورج مدینہ کے چاند کا،صلی الله تعالٰی علیہ وسلم وعلی آلہ وصحبہ وبارك وکرم آمین!
خیر یہ مرتبہ تو عمر کاہے،مسلمانوں چار باتوں میں سے ایك کو بھی اخیتار کرتے نہیں معلوم ہوتے،مگر ضروریات امداد ترك کی نسبت کہئے مرثیے ہزاروں پڑھے گئے مگر سوابعض غرباء کے امراء ورؤسا بلکہ دنیا بھر کے والیان ملك نے بھی کوئی قابل قادر حصہ لیا وہ جو فوجی مدد دے سکتے تھے وہ جولاکھ پونڈ بھیج سکتے تھے وہ ہیں اور بے پروائی،گویا انھوں نے کچھ سنا ہی نہیں۔انھیں جانے دیجئے،وہ جانیں اور ان کی مصلحت،آپ بیتی کہئے،کتنا چندہ ہو اہے جس پر ہمدردی اسلام کا دعوٰی ہے،مصارف جنگ کچھ ایسے ہلکے ہیں،جتنا چندہ جا چکا ہے ایك دن کی لڑائی میں اس سے زیادہ اڑجاتا ہے،اب بھی اگر تمام ہندوستان کے جملہ مسلمان امیر فقیر غریب رئیس اپنے سچے ایمان سے ہر شخص اپنے ایك مہینہ کی آمدنی دے دے تو گیارہ مہینہ کی آمدنی میں بارہ مہینہ گزرکرلینا کچھ دشوار نہ ہو۔اور الله عزوجل چاہے تو لاکھوں پونڈ جمع ہوجائیں،یو نیورسٹی کے لئے جو غریبوں کے پیٹ کاٹ کر تیس لاکھ سے زیادہ جوڑلیا اور اس پر سود مل رہاہے کہ اس کی مقدار بھی چالیس ہزار سے زائد سے زائد ہوچکی ہے،اور وہ بنی بھی نہیں یہ روپے تو گھر سے دینا نہیں اس کو الله وحدہ قہار کی راہ بھیج دیجئے،اسلام باقی ہے تو یونیورسٹی نہ بننا ضرر نہ دے گا۔اور اسلام نہ رہا تو یونیورسٹی کیا بخشوالے گا،بلکہ ہم کہہ دیتے ہیں کہ وہ اس وقت ہرگز ہرگز بن بھی نہ سکے گی اس وقت جوگت ہوگی اس کا بیان پیش از وقت ہے اور بالفرض تنگ دل اور بخیل ہاتھ پرایا مال بھی یوں دینے کو نہ ہو تویہ تمام وکمال روپے سلطنت اسلام کو بقائے اسلام کے لئے بطور قرض حسن ہی دیجئے،اور زیادہ کیا کہوں،وحسبنا اﷲ ونعم الوکیل ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم،واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
کتب عبدہ المذنب احمد رضا البریلوی عفی عنہ بمحمدن النبی الامی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم
مہر دارالافتاء مدرسہ اہلسنت وجماعت بریلی
تصحیح کردہ اعجاز الرضوی از کاظمی مقیم دربار داتاصاحب
صح الجواب واﷲ تعالٰی اعلم۔ الجواب صحیح
محمد رضاخان قادری عفی عنہ فقیر حسین احمد العاشقی النھواری عفی عنہ المولی القوی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع