30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کے شخص نے صرف ایك کوٹھری چھبیس ہزار روپے کو خریدی فقط اس لئے کہ اس کے وسیع مکان سکونت سے ملحق تھی،جسے میں بھی دیکھ آیا ہوں،اور مظلوم اسلام کی مدد کے لئے جو کچھ جوش دکھائے جارہے ہیں آسمان سے بھی اونچے ہیں،اور جو اصلی کا روائی ہورہی ہے زمین کی تہہ میں ہے پھر کس بات کی امید کی جائے،بڑی ہمدردی یہ نکالی ہے کہ یورپ کے مال کا بائیکاٹ ہو،میں اسے پسند نہیں کرتا۔ہرگز مسلمانوں کے حق میں کچھ نافع پاتاہوں،اول تویہ بھی کہنے کے الفاظ ہیں نہ اس پر اتفاق کریں گے نہ ہرگز اس کو نباہیں گے،اس عہد کے پہلے توڑنے والے جنٹل مین حضرات ہی ہوں گے جن کی گزر بغیر یورپین اشیاء کے نہیں۔تو سارا یورپ ہے پہلے صرف اٹلی کا بائیکاٹ ہواتھا،اس پر کتنوں نے عمل کیا اور کتنے دن نباہا،پھر اس سے یورپ کو ضرر بھی کتنا،اور ہو بھی تو کیا فائدہ کہ وہ ہو سو ترکیوں سے اس سے دہ گنا ضرر پہنچاسکتے ہیں،لہذا ضرر رسانی کا ارادہ صرف وہی مثل ہے کہ کمزور اور پٹنے کی نشانی،بہترہے کہ مسلمان اپنی سلامت روی پر قائم رہیں،کسی شریرقوم کی چال نہ سیکھیں،اپنے اوپر مفت کی بدگمانی کا موقع نہ دیں،ہاں اپنی حالت سنبھلالنا چاہتے ہیں تو ان لڑائیوں ہی پر کیا موقوف تھا،ویسے ہی چاہئے تھا کہ:
اولًا:باستثناء ان معدود باتوں کے جن میں حکومت کی دست اندازی ہو اپنے تمام معاملات اپنے ہاتھ میں لیتے،
اپنے سب مقامات اپنے آپ فیصل کرتے،یہ کروڑوں روپے جو اسٹامپ ووکالت میں گھسے جاتے ہیں گھر کے گھرتباہ ہوگئے اور ہوئے جاتے ہیں محفوظ رہتے۔
ثانیًا:اپنی قوم کےسوا کسی سے کچھ نہ خرید تے کہ گھر کا نفع ہی میں رہتا،اپنی حرفت وتجارت کو ترقی دیتے کہ کسی چیز میں کسی دوسری قوم کے محتاج نہ رہتے،یہ نہ ہوتا کہ یورپ و امریکہ والے چھٹانك بھر تانبا کچھ صناعی کی گھڑنت کرکے گھڑی وغیرہ نام رکھ کر کہ آپ کو دے جائیں اوراس کے بدلے پاؤ بھر چاندی آپ سے لےجائیں۔
ثالثًا:بمبئی،کلکتہ،رنگون،مدراس،حیدرآباد وغیرہ کے تو نگر مسلمان اپنے بھائی مسلمانوں کیلئے بنك کھولتے،سود شرع نے قطعی حرام فرمایاہے،مگرا ور سو طریقے نفع لینے کے حلال فرمائے ہیں جن کا بیان کتب فقہ میں مفصل ہے اور اس کا ایك نہایت آسان طریقہ"کتاب کفل الفتیہ الفاھم"میں چھپ چکاہے،ان جائز طریقوں پر بھی نفع لینے کہ انھیں بھی فائدہ پہنچتا اور ان کے بھائیوں کی بھی حاجت برآتی اورآئے دن جو مسلمانوں کی جائدادیں بنیوں کی نذر کوہوئی چلی جاتی ہے ان سے بھی محفوظ رہتے، اگر بنیوں کی جائداد ہی لی جاتی مسلمان ہی کے پاس رہتی یہ تو نہ ہوتا کہ مسلمان ننگے اور بنئے تنگے۔
رابعًا: سب سے زیادہ اہم،سب کی جان،سب کی اصل اعظم وہ دین متین تھا جس کی رسی مضبوط تھامنے نے اگلوں کو ان مدارج عالیہ پر پہنچایا،چار دانگ عالم میں انکی ہیبت کا سکہ بٹھایا،نان شبینہ کے محتاجوں کو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع