30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کہ یہ دینی کانفرنس کہاں ہے یہ تو دینوی ترقی کے لئے قائم کی گئی ہے جو ہمارا ملك تعلیم میں سب سے پیچھے ہے،آیا سنیوں کو ایسی کانفرنس کا قائم کرنا اور جان ومال سے اس کی مدد کرنا،اس کے جلسہ میں شریك ہونا بددین مرتدوں کو مسلمان سمجھنا اور ان سے میل جول پیدا کرنااور ان سے ترقی کی امید رکھنا شرع شریف میں کیا حکم رکھتاہے؟ یہ ہمارے ائمہ دین(رحمہم الله تعالٰی)وضاحت سے بیان کرکے ان سیدھے سادے مسلمانوں کو گمراہی کے گڑھے اور بیدینوں کے ہتھکنڈوں سے بچاکر نعمائے دارین حاصل کریں،جواب آنے پر ان شاء الله تعالٰی اس استفتاء کو چھپواکر اس ملك کاٹھیاوار و گجرات وبرما وغیرہا جگہ پر بغرض اشاعت مسلمانوں میں عام طور سے تقسیم کیا جائے گا۔فقط
تاریخ ۲ ۱محرم الحرام ۱۳۳۵ہجریہ مقدسہ پنجشنبہ۔ راقم آثم خادم قاسم میاں عفی عنہ از مقام گونڈل علاقہ کاٹھیاوار
الجواب:
(۱)ایسی مجلس مقرر کرنا گمراہی ہے اور اس میں شرکت حرام،اور بد مذہبوں سے میل جول آگ ہے اور اس بڑی آگ کی طرف کھینچ کرلے جانے والا،الله عزوجل فرماتاہے:
|
" اِمَّا یُنۡسِیَنَّکَ الشَّیۡطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّکْرٰی مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۶۸﴾ "[1] |
اور اگر تجھے شیطان بھلادے تویا د آنے پر پاس نہ بیٹھ ظالموں کے۔ |
تفسیرات احمدیہ میں ہے:
|
دخل فیہ الکافر والمبتدع والفاسق والقعود مع کلھم ممتنع [2]۔ |
اس آیت کے حکم میں ہر کافر ومبتدع اور فاسق داخل ہیں اور ان میں سے کسی کے پاس بیٹھنے کی اجازت نہیں۔ |
الله عزوجل فرماتاہے:
|
" وَلَا تَرْکَنُوۡۤا اِلَی الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا فَتَمَسَّکُمُ النَّارُ ۙ "[3]۔ |
ظالموں کی طرف میل نہ کرو کہ تمھیں آگ چھوئے گی۔ |
صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے حضور اقدس صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
ایاکم وایاھم لایضلونکم |
ان سے دور رہو اور انھیں اپنے سے دور کرو |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع