30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
اس میں جو لوگ مسلمان کہلاتے ہیں گاندھی کے تابع ہوکر آرہے ہیں،اشتہار کی سرخسی میں صرف اس کی آمد ہے اور اس کی خدمات اور قربانیوں کا ذکر کرکے اس کے استقبال کو شاندار بنانے کا شد ومد ہے،باقی مسلم یا نامسلم اس کے ساتھی یا تابع رکھے گئے ہیں اور پیغام بھی اسی کا سنانا لکھا ہے،پھر یہ جلوس دوسرے کا کیونکر ہوسکتاہے،حدیث کے ارشاد پر نکتہ چینی مسلمان کا کام نہیں،فعل کفر میں جو دل سے شریك ہو وہ ظاہرًا باطنًا کافر ہے،اور جو اکراہ واضطرار ومجبوری محض سے بظاہر شریك ہو اسے معافی ہے۔مگر اکراہ صحیح شرعی درکارہے،کسی کی خاطر وغیرہ سے مجبور ہونا شرعی مجبوری نہیں اور بلااکراہ شرعی شرکت کفر پر بھی شریعت مطہرہ لزوم کفر وتجدیداسلام وتجدید نکاح کا حکم دے گی۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۳: از شہر محلہ لوکپور چھوٹا دروازہ مسئولہ سید رونق علی صاحب ۳ صفر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ خلافت اسلامیہ عرب کی کمیٹی کا جلسہ بریلی میں ہوگا،مولانا محمد علی وشوکت علی اور مہاتما گاندھی وغیرہ آئیں گے،بازار سجایا گیا ہے،ان سب کا جلوس دھوم دھام سے نکلے گا اورجلسہ میں مسلمان،ہندو،نیچری، وہابی،شیعہ سب شریك ہوں گے۔ایسی حالت میں مسلمان اہلسنت وجماعت اس جلسہ میں شرکت کریں یا جلوس دیکھیں یانہیں ؟ اوراس جلسہ میں شرکت جائز ہے یا گناہ؟ کیسا گناہ ؟ خدا کے واسطے حکم شریعت اس جلسہ میں چندہ دینے اور بیان سننے وغیرہ کا صاف صاف قرآن وحدیث سے بیان فرمایا جائے۔
الجواب:
تعظیم مشرك کےجلوس میں شرکت حرام ہے،اور حرام فعل کا تماشا دیکھنا بھی حرام ہے۔طحطاوی علی الدرالمختار میں ہے: التفرج علی المحرم حرام [1](حرام پر خوشی بھی حرام ہے۔ت)ایسے جلسوں میں شرکت گناہ کبیرہ ہے،
|
قال اﷲ تعالٰی "فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّکْرٰی مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۶۸﴾"[2]۔ |
اﷲ تعالٰی کا ارشاد گرامی ہے:پس نصیحت ویاد دہانی کے بعد ظالموں کے پاس مت بیٹھو(ت) |
نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:من سود مع قوم فھو منھم [3](جس نے جس
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع