30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۱) اعلام الاعلام بان ھندوستان دارالاسلام (۱۳۶۵ھ)
اس بات کا ثبوت کہ ہندوستان دارالاسلام ہے۔
(۲) نابغ النور علی سوالات جبلفور (۱۳۳۹ھ)
ترك موالات سے متعلق چند اہم سوالات کا جواب۔
(۳) دوام العیش فی الائمۃ من قریش (۱۳۳۹ھ)
خلافت شرعیہ کے لئے شرط قرشیت کا مدلل ثبوت
(۴) ردالرفضۃ (۱۳۲۰ھ)
تبرائی رافضیوں کا رد بلیغ
(۵) المبین ختم النبیین (۱۳۲۶ھ)
حضور اکرم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے خاتم جمیع انبیاء ومرسلین ہونے کا روشن بیان
(۶) المحجۃ المؤتمنۃ فی اٰیۃ الممتحنۃ (۱۳۳۹ھ)
تحریك خلافت اور غیر مسلموں سے ترك موالات پر بحث۔
(۷) انفس الفکر فی قربان البقر (۱۲۹۸ھ)
گاؤ کشی کے معاملہ میں مفصل تحقیقات اور ہندؤوں کے شبہات کاازالہ۔
مذکورہ بالاسات رسائل میں سے دورسالے نابغ النور اور المبین پہلے سے فتاوٰی رضویہ قدیم جلد ششم میں موجود تھے جبکہ آخر الذکر رسالہ انفس الفکر فتاوٰی رضویہ قدیم جلد ہشتم کتاب الاضحیہ میں شامل تھا۔ مگر اس کے مباحث جلیلہ کتاب السیر سے زیادہ مطابقت رکھتے ہیں لہذا اس کو جلد ہذا میں شامل کردیا گیا۔ باقی چاروں رسائل اس سے قبل فتاوٰی رضویہ میں شامل نہ تھے موضوع کی مناسبت کے پیش نظر ان کو اس جلد کی زینت بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ رسالہ انفس الفکر کے متصل بعد جلد ہشتم قدیم میں مذکور ہندوستان میں گاؤ کشی کے بارے میں نو مسائل بھی اس جلد میں شامل کردئے گئے ہیں، اس طرح رسالہ انفس الفکر سمیت صفحہ ۴۴۳ تا ۴۵۹ تقریبا سولہ صفحات کو جلد ہشتم قدیم سے نکال کر جلد ہذا میں شامل کیا گیا۔ رسالہ انفس الفکر کے حوالے سے مصنف علیہ الرحمۃ کی خداداد فہمی بصیرت پر صدرالشریعہ مصنف بہار شریت مولانا امجد علی اعظمی کا تبصرہ اہم وضاحت کے عنوان سے رسالہ مذکورہ کے حاشیہ میں دے دیا گیاہے۔
ہندوستان میں گاؤکشی کے بارے میں مسلم لیگ ضلع بریلی کی طرف سے بھیجے گئے استفتاء کا جناب نواب مرزا صاحب کی طرف سے تحریر کردہ جواب بھی پیش نظر جلد کے صفحہ ۵۵۸ پر ذکر کردیا گیا ہے جس کی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع