30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اسماء الرجال |
|
مشرکین مکہ نے حضور سیدالمرسلین علیہ الصلوٰۃ والسلام پر ابتداع کی تہمت رکھی تھی۔ |
۱۵۲ |
|
محمد عابدین ، سلطان محمود خاں مرحوم کے عہد میں انھیں کی طر ف سے دمشق اور تمام دیار شام کے مفتی اعظم تھے۔ |
۱۴۵ |
قرآن مجیدنے حضرت مسیح علیہ السلام کے صلیب پر چڑھائے جانے کی تکذیب کی۔ |
۱۵۸ |
|
حکم نے مقسم سے صرف چارحدیثیں سنیں۔ |
۵۰۳ |
زمانہ صحابہ سے برابر علماء کرام خلفاء وملوك کو علیحدہ کرتے آئے ہیں حتی کہ خود سلاطین اسی کے پابند رہے۔ |
۱۷۵ |
|
حسن بن عمارہ متروك ہے۔ |
۵۰۳ |
کفار تاتار کے دست ظلم سے محروم ۶۵۶ھ میں جامہ خلافت تارتار ہوگیا توعلماء نے فرمایاکہ ساڑھے تین برس تك تك خلافت منقطع رہی حالانکہ اس وقت بھی قاہر سلطنتیں موجود تھیں۔ |
۱۷۵ |
|
حٰیوۃ نے زہری سے کوئی حدیث نہیں سنی۔ |
۵۰۳ |
مصر کے سلطان بیبرس کا لقب ملك ظاہر تھا۔ |
۱۷۵ |
|
یزید علیہ مایستحقہ باجماع اہلسنت فاسق وفاجر اور جری علی الکبائر تھا۔ |
۵۹۱ |
خلیفہ مستعصم بالله ۱۴ صفر بروز چہارشنبہ ۶۵۶ھ کو شہید ہوئے۔ |
۱۷۶ |
|
تاریخ وتذکرہ |
|
۱۳ رجب کو مستنصر بالله خلیفہ مقرر ہوئے۔ |
۱۷۶ |
|
اخرجواالیہود والنصارٰی پر عمل دور فاروقی میں ہوا۔ |
۱۳۸ |
مصر میں قائم شدہ خلافت جواڑھائی سوبرس تك رہی خود سلطان کی قائم کردہ تھی۔ |
۱۷۶ |
|
قرامطہ، عبیدیہ اور نجدیہ کا جبری تسلط کسی خلیفہ یا سلطان کی اجازت سے نہ تھا۔ |
۱۳۸ |
مقتدر بالله کو تیرہ برس کی عمر میں ۲۹۶ھ میں خلافت ملی۔ |
۱۷۶ |
|
عدن اور جدہ میں نصارٰی کا قیام اواخر سلطنت ترك سے ہے۔ |
۱۳۸ |
مملکت ہندکے متشرع سلاطین نے بھی عباسی قرشی خلفاء سے اپنے نام پروانہ سلطنت طلب کیا۔ |
۱۷۷ |
|
قرامطعہ حجر اسود کھود کر لے گئے جو بیس برس بعد واپس ہوا، نجدیوں کی ضرب سے اس میں شق آگیا۔ |
۱۳۸ |
بادشاہ ہندغیاث الدین احمد شاہ بن اسکندر شاہ نے خلیفہ مستعین بالله سے اپنے لئے پروانہ تقرر سلطنت مانگا۔ |
۱۷۷ |
|
میاں عبدالماجد بدایونی نے ہزاروں کے مجمع میں گاندھی کو مذکر مبعوث من الله کہا۔ |
۱۴۹ |
مصر کی عباسی خلافت کا سلسلہ کب شروع ہوا۔ |
۱۷۷ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع